ایران کی دھمکی: امریکہ اور اسرائیل پر شدید حملوں کا عندیہ
ایران نے دعویٰ کیا کہ آئی آر جی سی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف چھ ماہ تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے لیے تیار ہے۔
ایران کی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری کشیدگی میں کم از کم چھ ماہ تک جاری رہنے والے شدید جنگی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہیں۔ یہ اعلان اسلامی انقلاب گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان علی محمد نینی نے کیا ہے۔ انہوں نے فارسی نیوز ایجنسی کے ذریعے بتایا کہ ایران نے حالیہ فوجی کارروائیوں میں امریکہ اور اسرائیل کے 200 سے زیادہ مقامات پر حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں استعمال کی جانے والی زیادہ تر میزائلیں پہلی اور دوسری نسل کی ہیں۔ اس کے باوجود، ایران کی فوج نے واضح کیا ہے کہ آئندہ جنگی مراحل میں زیادہ جدید اور کم استعمال ہونے والی لمبی فاصلے کی میزائلوں کو استعمال کیا جائے گا، جو دشمن کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف دفاعی پوزیشن مضبوط کرنا ہے بلکہ خطے میں ایران کی عسکری صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آئی آر جی سی کے اس بیان کا مقصد دشمن کو تنبیہ کرنا اور ایران کی فوجی تیاریوں کے بارے میں واضح اشارہ دینا ہے۔ ایران نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مستقبل میں ہونے والے حملے زیادہ مربوط اور ہدف پر مرکوز ہوں گے، تاکہ دشمن کو زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ اس بیان کے بعد، عالمی سطح پر تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ یہ بیانات مشرق وسطیٰ میں تنازعے کو کس حد تک بڑھا سکتے ہیں۔
ایران کے اس دعوے کے تناظر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دونوں ممالک نے ماضی میں ایران کی عسکری طاقت پر نظر رکھنا اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ اس دوران، خطے میں موجود دیگر ممالک بھی کشیدگی کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور فریقین سے صبر و تحمل کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے یہ بیان ایک مضبوط دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر ایران واقعی اپنے دعووں کے مطابق لمبی فاصلے کی جدید میزائلوں کو استعمال کرتا ہے، تو اس سے امریکہ اور اسرائیل کے فوجی مقامات اور حساس تنصیبات پر براہِ راست خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نوعیت کے بیانات خطے میں سیاسی اور عسکری توازن کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
خطے کی موجودہ صورتحال میں ایران کی فوجی تیاریوں اور آئی آر جی سی کے بیانات کو عالمی برادری خاصی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ہونے والی عسکری کارروائیاں مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خارجہ پالیسیوں اور عالمی سطح پر سیاسی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسے میں عالمی سطح پر کشیدگی کے بڑھنے کا خطرہ موجود ہے اور بین الاقوامی رہنما اس معاملے پر قابو پانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔





