ایران کا دعویٰ: کئی امریکی فوجی قید، امریکہ خاموش
ایران کا دعویٰ ہے کہ کئی امریکی فوجی اس کی قید میں ہیں، جبکہ امریکہ انہیں جنگ میں ہلاک قرار دے رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس کئی امریکی فوجی قیدی موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ فوجی حالیہ جھڑپوں کے دوران پکڑے گئے، جبکہ امریکہ کا موقف اس سے مختلف ہے۔ لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ متعدد امریکی فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، لیکن امریکہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ جنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سچائی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ان کے بقول یہ حقیقت زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہ سکے گی۔ لاریجانی کے اس دعوے کے بعد خطے کی سیاسی فضا میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر تاحال امریکی حکومت یا فوج کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ڈیلویئر میں واقع ڈوور ایئر فورس بیس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایران کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں مارے جانے والے چھ امریکی فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ اس حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ خطے کے کئی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر یہ اطلاعات غلط یا مبالغہ آمیز ثابت ہوئیں تو بھی اس طرح کے بیانات خطے میں عدم اعتماد اور سیاسی تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے آئندہ ردعمل پر مرکوز ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی سیاست اور سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





