ایران ہر ممکنہ امریکی اقدام کے جواب کے لیے تیار ہے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ملک امریکی کسی بھی ممکنہ حملے کا مکمل طور پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کے جواب میں ایران ہر طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی تیاری موجودہ حالات میں گزشتہ سال جون 2025 کے امریکی فضائی حملوں کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط اور جامع ہے۔ عراقچی نے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی سطح پر دانشمندانہ اور محتاط راستہ اختیار کیا جائے گا، تاکہ کسی بھی غیر ضروری تصادم سے بچا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں محدود فضائی حملے، میزائل حملے اور سائبر کارروائیاں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی امریکی ردعمل میں فضائی طاقت کے استعمال کا امکان زیادہ ہے، جبکہ منصوبہ ساز ایرانی فوجی کمانڈ سٹرکچرز اور کمیونیکیشن نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔
عراقچی نے ایران میں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کرنے کے فیصلے کی وضاحت بھی کی۔ ان کے مطابق ایران میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد غیر ملکی احکامات اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز ہوااور اسی لمحے سے حکومت نے عوامی رابطے اور معلومات کی ترسیل محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعرات 8 جنوری سے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش کا آغاز ہوا، جس کے بعد معلومات کی ترسیل محدود ہو گئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں خدشات بڑھ گئے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت آ سکتی ہے۔عراقچی نے 8 جنوری کے دن کو ایران میں جاری احتجاجات اور اسرائیل کے ساتھ مبینہ جنگ کے 13 ویں دن کے طور پر بیان کیا اور کہا کہ دشمن نے اس موقع پر ایرانی معاشرے میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران رات کے وقت بڑے ہجوم سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت نے فوری طور پر مواصلات اور انٹرنیٹ کو محدود کر دیا، تاکہ بدامنی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
ایران میں جاری دو ہفتے سے زائد کے مظاہروں اور بدامنی کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ بیرونی حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن حکومت کا مقصد دانشمندانہ اقدامات کے ذریعے غیر ضروری خونریزی اور عالمی سطح پر تنازع سے بچنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی اور حفاظتی تیاری پچھلے برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے اور کسی بھی خارجی یا داخلی خطرے کا مؤثر جواب دینے کے قابل ہے۔





