منگلورو میں مہاجر مزدور پر تشدد، بنگلہ دیشی کہہ کر حملہ
منگلورو میں جھارکھنڈ کے مہاجر مزدور کو بنگلہ دیشی کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تین افراد گرفتار۔
کرناٹک کے ساحلی شہر منگلورو میں ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں جھارکھنڈ سے روزگار کے لیے آئے ایک مہاجر مزدور پر تشدد کرنے کے الزام میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ مزدور کو زبردستی بنگلہ دیشی قرار دے کر اس کی شناخت پر سوال اٹھائے گئے اور بعد میں اس پر حملہ کیا گیا۔پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد کے نام رتھیش داس، دھنش اور ساگر بتائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تینوں کا تعلق ایک مقامی ہندو تنظیم سے بتایا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ ان افراد نے جھارکھنڈ کے رہائشی دلجان انصاری سے آدھار کارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات دکھانے کا مطالبہ کیا اور اس دوران ان پر نازیبا اور توہین آمیز تبصرے بھی کیے۔
دلجان انصاری نے جب واضح طور پر کہا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور بنگلہ دیش سے ان کا کوئی تعلق نہیں، تو ملزمان نے مبینہ طور پر ان کے کام کے اوزاروں سے ان کے سر پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں اور کافی خون بہنے لگا۔متاثرہ شخص ایک تعمیراتی مزدور ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا، اسی دوران ملزمان زبردستی ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور ان کی شہریت کے بارے میں سوالات کرنے لگے۔ پولیس کے مطابق ایک مقامی ہندو خاتون نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے دلجان انصاری کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔منگلورو کے پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے بتایا کہ پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کیں اور اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ دلجان انصاری ہندوستانی شہری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ مزدور گزشتہ پندرہ برسوں سے ہر سال چار سے پانچ ماہ کے لیے منگلورو میں کام کرنے آتے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق دلجان انصاری اس قدر خوفزدہ تھے کہ خود شکایت درج کرانے کی ہمت نہیں کر سکے، تاہم مقامی لوگوں نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دی، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں غیر قانونی طور پر روکنا، قتل کی کوشش، جان بوجھ کر توہین کر کے امن میں خلل ڈالنا، مجرمانہ دھمکی اور خطرناک ہتھیار سے چوٹ پہنچانے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔یہ واقعہ مہاجر مزدوروں کے تحفظ اور شناخت کی بنیاد پر ہونے والے تشدد پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔





