اکھلیش یادو کا الیکشن کمیشن پر بڑا حملہ، ووٹر لسٹ پر سوال
اکھلیش یادو نے ووٹر لسٹ نظرثانی پر الیکشن کمیشن پر سازش، شفافیت کی کمی اور پی ڈی اے ووٹ کٹوتی کا الزام لگایا۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے خصوصی نظرِ ثانی فہرست (ایس آئی آر) کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر مرکزی الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی اور پنچایت انتخابات کی ووٹر فہرستوں کی تیاری ایک ہی بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کے ذریعے کی گئی ہے تو پھر دونوں فہرستوں میں ووٹروں کی تعداد میں اتنا بڑا فرق کیسے سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق کسی انتظامی غلطی کا نہیں بلکہ ایک منظم سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اکھلیش یادو نے نشاندہی کی کہ ایس آئی آر کے عمل کے بعد اسمبلی ووٹر لسٹ سے تقریباً 2 کروڑ 88 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے، جبکہ اسی دوران ریاستی الیکشن کمیشن یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پنچایت انتخابات کی ووٹر لسٹ میں 40 لاکھ نئے ووٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان دونوں میں سے کس ووٹر لسٹ کو درست مانا جائے اور عوام کو کس پر یقین کرنا چاہیے۔
لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت منصوبہ بند طریقے سے پی ڈی اے (پسماندہ، دلت اور اقلیتی) سماج کے ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹوا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی آر کے ذریعے پچھلے دروازے سے این آر سی نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ ایسا کرنا وزارتِ داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن کے۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے ہر بوتھ پر ووٹروں کی تعداد میں تقریباً 200 کا اضافہ کرنے کی ہدایت دی ہے، جو انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ اکھلیش یادو کے مطابق اتر پردیش میں پی ڈی اے سماج کے تین سے چار کروڑ ووٹروں کے نام کاٹے جانے کی کوشش ایک گہری سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کے پی ڈی اے پہریوں اور بی ایل ایز کو ہدایت دی کہ جہاں کہیں بھی بے ضابطگی نظر آئے، فوراً ایف آئی آر درج کرائی جائے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے تمام ووٹروں کے آدھار کارڈ کو ووٹر آئی ڈی سے جوڑنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایس آئی آر کے دوران خود وزیر اعلیٰ نے ایک عوامی خطاب میں چار کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کا ذکر کیا تھا، جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب پہلے ہی ووٹروں کی تعداد طے کر دی جائے تو پھر ایس آئی آر کی شفافیت پر یقین کیسے کیا جا سکتا ہے۔مزید برآں انہوں نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی کمپنی جس نے الیکٹورل بانڈ کے ذریعے بی جے پی کو چندہ دیا، اسی نے الیکشن کمیشن کا ایپ تیار کیا، تو پھر کمیشن کی ایمانداری کیسے ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں انتخابات قریب ہوتے ہیں وہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سرگرم ہو جاتی ہے، مگر اتر پردیش میں 800 کروڑ روپے کے کف سیرپ گھوٹالے پر ای ڈی کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اکھلیش یادو نے ریاست میں خواتین کی بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔





