دہلی فسادات کیس میں چار ملزمان کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملی
دہلی فسادات کیس میں گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمان، محمد سلیم خان ضمانت پر رہا، عمر خالد شرجیل امام کو ضمانت نہیں ملی
دہلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے ایک مقدمے میں بدھ کے روز چار ملزمان کو جیل سے رہائی مل گئی۔ ان افراد کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دی گئی تھی، جس کے بعد دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے قانونی کارروائی مکمل ہونے پر ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفأ الرحمان اور محمد سلیم خان کی جانب سے جمع کرائے گئے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور اتنی ہی رقم کے دو مقامی ضمانت داروں کو قبول کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کی منظوری دی۔ عدالت کے حکم کے بعد جیل حکام نے بدھ کی رات ان چاروں کو مختلف جیلوں سے رہا کر دیا۔
جیل حکام کے مطابق گلفشاں فاطمہ، شفأ الرحمان اور میران حیدر کو تہاڑ جیل سے رہا کیا گیا، جبکہ محمد سلیم خان منڈولی جیل سے باہر آئے۔ جیل سے رہائی کے وقت گلفشاں فاطمہ کا ان کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں نے پھولوں کے ہار پہنا کر اور مٹھائیاں کھلا کر استقبال کیا۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس مقدمے کے پانچویں ملزم شاداب احمد عدالت میں ضمانتی بانڈ جمع کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے، جس کے سبب ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز شاداب احمد کو بھی دیگر ملزمان کے ساتھ ضمانت دی تھی۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دیگر ملزمان کے مقابلے میں ان دونوں کا کردار مختلف نوعیت کا ہے، اس لیے انہیں فی الحال ضمانت نہیں دی جا سکتی۔رہائی کے بعد شفأ الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد تھا اور رہے گا۔ ان کے مطابق ہندوستان کا آئین اور قانون انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا ثبوت آج کی رہائی ہے۔
واضح رہے کہ عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سال 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والے احتجاجات کی آڑ میں فروری 2020 میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی مبینہ سازش رچی تھی۔ ملزمان کی جانب سے عدالت میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ وہ پانچ برس سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں، لیکن اب تک مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہو سکی۔سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر بحث اور اختلاف رائے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔خاص طور پر عمر خالد اور سرجیل امام کو ضمانت نہ ملنے پر۔





