بھارت کا بیان: ویینزویلا میں امریکی کارروائی پر گہری تشویش
بھارت نے ویینزویلا میں امریکی کارروائی پر تشویش ظاہر کی، شہریوں کی حفاظت اور پرامن حل پر زور دیا۔
ویینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی زوجہ کی امریکی کارروائی میں گرفتاری کے بعد بھارت نے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ویینزویلا میں موجودہ حالات گہری تشویش کا باعث ہیں اور بھارت اس کی بدلتی ہوئی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت ویینزویلا کے عوام کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے حمایت کو دہرایا ہے اور تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مسائل کا حل پرامن اور گفت و شنید کے ذریعے تلاش کریں تاکہ علاقے میں امن اور استحکام قائم رہے۔کاراکاس میں واقع بھارتی سفارتخانے نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کے رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ اس سے قبل بھارت نے اپنے شہریوں کے لیے ایک سفری ہدایت نامہ بھی جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ویینزویلا کی غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور وہاں کی موجودہ صورت حال پر محتاط رہیں۔
ویینزویلا کی راجدھانی کاراکاس میں ہفتے کی صبح دھماکوں کے بعد امریکی فورسز نے صدر مادورو اور ان کی زوجہ کو حراست میں لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں اس وقت امریکہ منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد عالمی برادری میں ہنگامہ خیزی پیدا ہوئی ہے اور مختلف ممالک نے صورتحال پر اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے زور دیا کہ بھارت کسی بھی غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے گا اور معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ کشیدگی کے اس وقت میں تمام فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ویینزویلا میں بھارتی کمیونٹی کے لیے سفارتخانے نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور حالات پر محتاط رہیں۔ماہرین کے مطابق، ویینزویلا کی موجودہ صورتحال خطے میں سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک نازک مرحلہ ہے اور عالمی برادری کی توجہ اور تعاون اس وقت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری یہ بیان اسی نکتہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی مسائل میں پرامن حل اور شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دیتا ہے۔





