ٹرمپ کا وینزویلا تیل پر بیان، عالمی توانائی منڈی میں ہلچل
ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں امریکی دلچسپی کی وجہ تیل بتائی، جس سے عالمی سیاست اور توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وینزویلا سے متعلق ایک بیان نے عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا کہ وینزویلا میں امریکی دلچسپی کی اصل وجہ وہاں کے تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔ ان کے مطابق وینزویلا کی صورتحال کے پیچھے بنیادی عنصر اس ملک کے قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل، پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں، مگر برسوں کی بدانتظامی اور کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے یہ ملک ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی تیل کمپنیاں وہاں بھاری سرمایہ کاری کریں گی، پرانے اور ناکارہ تیل کے کنوؤں اور پائپ لائنوں کو جدید امریکی ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ فعال کیا جائے گا اور تیل کی پیداوار بڑھا کر اسے عالمی منڈی میں فروخت کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صرف تیل پیدا نہیں کرے گا بلکہ اسے دیگر ممالک کو بھی زیادہ مقدار میں فروخت کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق، وینزویلا کی تیل کی صنعت اس حد تک کمزور ہو چکی تھی کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق بھی پیداوار نہیں کر پا رہی تھی، جس کی وجہ سے معیشت مزید تباہ ہو گئی۔ماہرین کے مطابق وینزویلا کے مسائل کی ایک بڑی وجہ اس کا ہیوی کروڈ آئل ہے۔ یہ تیل عام تیل کے مقابلے میں زیادہ گاڑھا اور چپچپا ہوتا ہے، جسے زمین سے نکالنا مشکل اور مہنگا عمل ہے۔ اس کے علاوہ اس تیل میں سلفر کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث اسے صاف اور قابلِ استعمال بنانے کے لیے جدید ریفائننگ ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے، جو زیادہ تر امریکی کمپنیوں کے پاس موجود ہے۔ اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اس تیل کی قیمت نسبتاً کم رہتی ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ وینزویلا کے تیل پر سخت پالیسی اپناتا ہے یا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں اس پالیسی کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی سیاست میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔





