اندور آلودہ پانی معاملہ، ہائی کورٹ کلکٹر، کمشنر کو نوٹس
اندور آلودہ پانی سے اموات پر ہائی کورٹ سخت، کلکٹر و کمشنر کو نوٹس، مفت علاج اور صاف پانی کے احکامات۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث ہونے والی اموات کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں دائر مختلف مفادِ عامہ کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضلع کلکٹر اور میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو نوٹس جاری کیے ہیں اور ان سے جواب طلب کیا ہے۔یہ معاملہ گزشتہ کچھ دنوں سے مسلسل سرخیوں میں ہے، جہاں آلودہ پانی پینے کے سبب متعدد افراد کی طبیعت خراب ہوئی اور بعض افراد کی جان بھی چلی گئی۔ اس سنگین صورتحال کے بعد ہائی کورٹ میں یکے بعد دیگرے مفادِ عامہ کی عرضیاں داخل کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری راحت فراہم کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
31 دسمبر کو اندور میں آلودہ پانی کی سپلائی کے معاملے پر دو مفادِ عامہ کی عرضیاں ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھیں۔ پہلی عرضی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رتیش اینانی کی جانب سے داخل کی گئی تھی، جب کہ دوسری عرضی سابق کونسلر مہیش گرگ اور کانگریس کے ترجمان پرمود کمار دیویدی کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ ان عرضیوں پر سماعت کے دوران عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو عبوری ہدایات جاری کی تھیں۔عدالت نے اپنے عبوری حکم میں واضح طور پر کہا تھا کہ آلودہ پانی سے متاثر تمام افراد کا مفت علاج کرایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہی احکامات کی تعمیل میں 2 جنوری کو میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ایک اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، جس میں کیے گئے اقدامات کی تفصیل فراہم کی گئی۔
اسی دوران اس معاملے میں ایک تیسری مفادِ عامہ کی عرضی بھی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ اس نئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اندور کے کلکٹر شیوم ورما اور میونسپل کارپوریشن کے کمشنر دلیپ کمار یادو کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے۔عدالت نے تیسری عرضی پر اگلی سماعت کی تاریخ 19 جنوری مقرر کی ہے، جب کہ پہلے سے دائر دونوں عرضیوں پر 6 جنوری کو دوبارہ سماعت ہوگی۔ ہائی کورٹ کے اس اقدام کو عوامی صحت کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





