مہوا موئترا کا الزام، مودی ریلی میں چار بی جے پی حامی ہلاک
مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ مودی ریلی میں چار بی جے پی حامی ٹرین حادثے میں ہلاک، بی جے پی نے نظرانداز کیا۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے ایک سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مجوزہ ریلی میں شرکت کے لیے جانے والے چار بی جے پی حامیوں کی ٹرین سے ٹکرانے کے نتیجے میں موت ہو گئی۔ اس واقعے کو انہوں نے نہایت افسوسناک قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس سانحے کو نظر انداز کر کے ریلی کو جاری رکھا گیا۔مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تکبر کے سامنے ایک خوفناک انسانی المیہ کو دبا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نادیہ ضلع کے رانگھاٹ علاقے میں ہونے والی وزیر اعظم کی ریلی کے لیے بی جے پی کے حامیوں کو دور دراز کے ضلع مرشدآباد سے لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ریلی کا مقام ریلوے لائن کے بالکل قریب تھا، جس کی وجہ سے یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔
ٹی ایم سی رکنِ پارلیمنٹ کے مطابق ریلی میں شریک چار افراد رفعِ حاجت کے لیے ریلوے لائن کی طرف گئے تھے، اسی دوران تہیرپور کے قریب 31814 ڈاؤن لوکل ٹرین کی زد میں آ کر ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے باوجود بی جے پی قیادت نے نہ صرف اسے مکمل طور پر نظر انداز کیا بلکہ میڈیا میں اس پر خاموشی اختیار کی گئی اور ریلی بغیر کسی تعطل کے جاری رکھی گئی۔اس معاملے پر مشرقی ریلوے کے ترجمان نے بی بی سی کے نمائندے چندن ججواڑے سے گفتگو میں کہا کہ یہ واقعہ مقامی سطح کے امن و امان کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ریلوے حکام کو کسی بھی واقعے کی مکمل اطلاع اس وقت تک نہیں ملتی جب تک کہ اس کا براہِ راست اثر ٹرینوں کی آمد و رفت یا آپریشن پر نہ پڑے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ریلوے انتظامیہ اس قسم کے حادثات میں متعلقہ مقامی حکام کی رپورٹ پر انحصار کرتی ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز مغربی بنگال اور آسام کے دورے پر جانے والے تھے، تاہم خراب موسم کے باعث وہ مغربی بنگال نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود نادیہ میں منعقد ہونے والی ریلی کو انہوں نے ورچوئل طور پر خطاب کیا۔ اس واقعے کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو گئی ہے، جہاں حکمراں ٹی ایم سی نے بی جے پی پر انسانی جانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اس معاملے پر بی جے پی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔یہ واقعہ انتخابی ریلیوں کے دوران حفاظتی انتظامات، عوامی ذمہ داری اور سیاسی ترجیحات پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، جن پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔





