جتن رام مانجھی نے وائرل بیان پر وضاحت پیش کی
جتن رام مانجھی نے وائرل بیان کو غلط تشریح قرار دیا، کانگریس نے الزام لگایا۔
مرکزی وزیر جتن رام مانجھی نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے ایک بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے اور ان کے بیان کا مطلب بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ جمہوری عمل اور انتخابی نظام پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور ان کے بیان کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔جتن رام مانجھی کے مطابق انہوں نے انتخابی عمل کے دوران اپنے ساتھی امیدوار کے حوصلے اور اعتماد کے حوالے سے بات کی تھی، نہ کہ کسی غیر قانونی یا غیر جمہوری طریقہ کار کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام ہی اصل مالک ہوتے ہیں اور یہ بات سبھی جانتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انتخابات کے پورے عمل میں الیکشن کمیشن سب سے اہم اور بااختیار ادارہ ہوتا ہے، جو شفافیت اور انصاف کو یقینی بناتا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ جب تک انتخابی نتائج حتمی طور پر سامنے نہ آ جائیں، امیدواروں کو اپنا حوصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں انہوں نے 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیا تھا۔ مانجھی کے مطابق حالیہ اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی کے ریاستی صدر بہت کم ووٹوں کے فرق سے ہار گئے، جس پر انہوں نے محض ان کے حوصلے کے حوالے سے گفتگو کی تھی، لیکن اس بیان کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔اس معاملے پر سیاسی تنازع اس وقت بڑھ گیا جب کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مانجھی کا وائرل بیان شیئر کرتے ہوئے سخت الزامات عائد کیے۔ سپریا شرینیت نے لکھا کہ 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں مانجھی کی پارٹی کا ایک امیدوار بری طرح شکست سے دوچار ہو رہا تھا، لیکن مبینہ طور پر ضلعی مجسٹریٹ (ڈی ایم) سے “سیٹنگ” کر کے اس امیدوار کو 2700 ووٹوں کے فرق سے جتوا دیا گیا۔
سپریا شرینیت نے مزید دعویٰ کیا کہ اس بار امیدوار نے وزیر سے رابطہ نہیں کیا، اس لیے کوئی مبینہ سیٹنگ نہیں ہو سکی اور امیدوار انتخاب ہار گیا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ڈی ایم دراصل الیکشن کمیشن کے افسر ہوتے ہیں اور اس طرح کے الزامات انتخابی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پورا معاملہ ’’ووٹ چوری‘‘ سے جڑا ہوا ہے۔تاہم جتن رام مانجھی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جو ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے، وہ گمراہ کن ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے کسی بھی غیر قانونی عمل کی بات نہیں کی بلکہ صرف ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کا ذکر کیا تھا، جو ایک آئینی اور قانونی حق ہے۔ مانجھی نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی فائدے کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔





