کرناٹک کونسل نے ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت قانون منظور کیا
کرناٹک کونسل نے اپوزیشن احتجاج کے باوجود ہیٹ اسپیچ و ہیٹ کرائم بل منظور کیا، سزاؤں اور ضمانت دفعات شامل۔
کرناٹک قانون ساز کونسل نے آج اپوزیشن جماعتوں بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) کے شدید احتجاج کے باوجود طویل بحث کے بعد کرناٹک ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم (انسداد) بل منظور کر لیا۔ یہ بحث تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہی، جس کے بعد بل کو ایوان بالا سے منظوری مل گئی۔اس سے ایک دن قبل یہی بل کرناٹک اسمبلی میں بھی منظور ہو چکا تھا، تاہم وہاں زیادہ تفصیلی بحث نہیں ہو سکی۔ اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے ایوان کے ویل میں آ کر نعرے بازی کی، جب کہ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے احتجاج کے طور پر بل کی کاپی پھاڑ دی تھی۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس بل کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ نفرت انگیز تقاریر اور جرائم سے متعلق دفعات پہلے ہی بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ایک نیا قانون بنا کر اپوزیشن اور میڈیا کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر نے بھی الزام لگایا کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2025 میں وشال تیواری بنام بھارت کیس کی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی والی بنچ نے ریاستوں کو نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر قانون بنانے کا مشورہ دیا تھا۔پرمیشور نے کہا کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور ہیٹ اسپیچ کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے متاثرہ افراد کی عزت نفس اور وقار کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ کو الگ تھلگ کرنے یا ذلیل کرنے کی کوشش ایک جرم ہے اور اس سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے۔
قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر نارائن سوامی نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس پہلے ہی بی این ایس کے قوانین کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار ہمیشہ ایک کے پاس نہیں رہتا اور یہی قوانین مستقبل میں حکومت کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔اس بل کے تحت ہیٹ اسپیچ کے جرائم ناقابلِ ضمانت اور قابلِ گرفتاری ہوں گے۔ نفرت انگیز تقریر پر ایک سے سات سال تک قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔ ہیٹ کرائم کے لیے کم از کم ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کو دو سے سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ دینا ہوگا۔بل میں ہیٹ اسپیچ کی تعریف بہت وسیع رکھی گئی ہے، جس میں زبانی، تحریری، اشاروں، تصویری یا الیکٹرانک ذرائع سے پھیلائی گئی وہ تمام باتیں شامل ہیں جو مذہب، ذات، جنس، زبان، معذوری، قبیلے یا دیگر بنیادوں پر کسی فرد یا گروہ کے خلاف نفرت یا دشمنی کو بڑھاوا دیں۔





