قرض کے بوجھ تلے کسان نے گردہ بیچا، ساہوکاروں پر کارروائی
چندرپور کے کسان نے قرض کے دباؤ میں اپنی گردہ بیچ دی، پولیس نے غیر قانونی ساہوکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
مہاراشٹر کے ضلع چندرپور میں قرض کے شدید بوجھ تلے دبے ایک کسان کی جانب سے اپنی گردہ (کڈنی) فروخت کرنے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ کسان کی سنگین شکایت کے بعد پولیس نے اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہوئے غیر قانونی ساہوکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ واقعہ ناگبھِیڑ تحصیل کے گاؤں منتھور سے متعلق ہے، جہاں متاثرہ کسان روشن سداشیو کُڑے رہائش پذیر ہے۔متاثرہ کسان روشن کُڑے نے الزام عائد کیا ہے کہ غیر قانونی ساہوکاروں سے لیے گئے قرض اور اس پر عائد بے تحاشا سود نے اس کی زندگی اجیرن بنا دی۔ قرض ادا نہ کر پانے کی صورت میں ساہوکاروں کی جانب سے مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اسے اپنی گردہ فروخت کرنے جیسا انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔ پولیس نے شام کے وقت تقریباً سات بجے چھ ساہوکاروں کے خلاف ساہوکاری ایکٹ کی دفعات 29، 30، 31 اور زبردستی رقم وصولی (ایکسٹورشن) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ملزمان میں کشور باونکولے، منیش گھاٹ بندھے، لکشمن اُرکُڑے، پردیپ باونکولے، سنجے بللاپورے اور ستیہ وان بورکر شامل ہیں۔ یہ مقدمہ برہمپوری پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے، جس میں سے پانچ ملزمان کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق روشن کُڑے نے سنہ 2021 میں علاج اور کاروباری ضروریات کے لیے سود پر رقم لی تھی۔ مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کر پانے کی وجہ سے اس پر بھاری سود اور روزانہ جرمانہ عائد کیا جانے لگا۔ نتیجتاً ایک لاکھ روپے کا قرض بڑھتے بڑھتے 74 لاکھ روپے تک جا پہنچا۔ قرض چکانے کے لیے کسان نے اپنی دو ایکڑ زمین، ٹریکٹر، گاڑی، گھریلو سامان حتیٰ کہ سونا بھی فروخت کر دیا، مگر اس کے باوجود قرض ختم نہ ہو سکا۔
کسان کا کہنا ہے کہ ساہوکاروں کے دباؤ میں آ کر اسے گردہ بیچنے کا مشورہ دیا گیا۔ ایک ایجنٹ کے ذریعے پہلے اسے کلکتہ لے جایا گیا، جہاں طبی جانچ کی گئی، اس کے بعد کمبوڈیا میں اس کی سرجری کر کے گردہ نکالا گیا۔ روشن کُڑے کے مطابق اسے اس کے عوض آٹھ لاکھ روپے دیے گئے۔چندرپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سدھارشن مُمکّا نے بتایا کہ غیر قانونی ساہوکاری کے ٹھوس شواہد ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بینک لین دین کی جانچ میں ملزمان کے کھاتوں میں مسلسل رقوم منتقل ہونے کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ گردہ فروخت کرنے سے متعلق الزامات کی علیحدہ سے تفصیلی تفتیش جاری ہے، جس میں طبی رپورٹس اور دیگر شواہد کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ پورے علاقے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ قرض کے جال میں پھنسے ایک کسان کی یہ دردناک کہانی سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ہے، اور عوامی حلقوں کی جانب سے غیر قانونی ساہوکاروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔





