سیاسی بصیرت

اسرائیلی انتخاب اور عرب سیاسی پارٹیاں

     ڈاکٹر غلام زرقانی

(چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ)

پچھلے ہفتے اسرائیل میں معمول کے مطابق انتخابات ہوئے ۔ لمبے عرصے سے برسراقتدار نیتن یاہوکے حوالے سے نتیجہ عین توقع کے مطابق ظاہر ہوا۔ تاہم مدمقابل سیاسی حریف اتنی نشستیں حاصل نہیں کرسکے ، جو آسانی کے ساتھ حکومت سازی کے لیے معاون ہو، لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز نتیجہ تویہ رہاہے کہ عرب سیاسی پارٹیوں نے انیس نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے قدرے تمہیدی گفتگو ہوجائے تاکہ متذکرہ بالا سیاسی پارٹیوں کے نظریات پیش نگاہ رہیں ۔ بنجامن نیتن یاہو سب سے لمبے عرصے تک برسراقتدار رہنے والے وزیر اعظم ہیں ۔ پہلی بار 1996ءسے 1999ءتک ، دوسری بار2009ء سے2021ء تک اور تیسری بار 2022ءسے اب تک ۔ یعنی انھیں تقریبا بائیس سالوں تک حکومت کرنے کا تجربہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جوڑ توڑ کی سیاست میں بہت ماہرہیں ۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا کہ پارٹی اکثریت سے محروم رہی ، لیکن اس کے باوجود چھوٹی پارٹیوں سے معاہدہ کرکے وہ حکومت سازی کا موقع حاصل کرتے رہے ہیں ۔ ا س بار مسلسل جنگ ، مہنگائی اور ملازمت کے حوالےسے لوگ بہت پریشان تھے، اس لیے یہ سمجھا جارہاتھا کہ وہ دوبارہ منتخب نہیں کیے جاسکیں گے، لیکن حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستوں سے محروم رہنے کے باوجود حالیہ انتخاب میں اُن کی اتحادی جماعت کے پاس 53 نشستیں ہیں ۔ یوں ان کی متحدہ محاذ پارلیامنٹ میں اب بھی سب سے بڑی پارٹی ہے۔دوسری طرف اُن کے مدمقابل سابق فوجی گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں تشکیل پانے والے سیاسی اتحاد کے پاس 48نشستیں ہیں ۔ تیسری جانب عرب سیاسی پارٹیوں کے متحدہ محاذ نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسرائیلی آئین کے مطابق حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد۶۱ہے ۔ اس طرح عام طورپر یہ دیکھا جارہاہے کہ عرب متحدہ محاذ کنگ میکر ہے ، یعنی عرب متحدہ محاذ کی حمایت سے ہی اب حکومت بنے گی۔
بظاہر عرب سیاسی پارٹیوں کی کامیابی مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن سمجھی جارہی ہے ، لیکن زمینی حقائق کی گہرائی کے تانے بانے ملانے کی کوشش کریں تومحسوس ہوگا کہ یہ خام خیالی ہے ۔ کسے خبر نہیں کہ عرب اور اسرائیل کے درمیان جو خلیج ہے ، وہ اس قدر گہری ہے کہ اسے پیمائش کے حیولے میں سمونا بھی مشکل ہے ۔ ایسے حالات میں سابقۃ الذکر دونوں سیاسی پارٹیاں مسلم مخالف ہیں ، بلکہ یوں کہیے توبے جانہ ہوگا کہ دونوں پارٹیوں کی خمیر جس سے تیار کی گئی ہے ، اس کے اجزائے ترکیبی میں عرب مخالفت اور اسلام نفرت کی آمیزش سب سے زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر نیتن یاہوکے دونوں ہاتھ نہتے مسلمانوں پر ظلم وبربریت کے خون سے آلودہ ہیں ، توگادی آئزن کوٹ کے خیالات بھی بہت حدتک تشویشناک ہیں، جیسے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت، غزہ میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی حمایت اور فلسطین پر اسرائیلی کنٹرول کا تسلسل ۔ خیال رہے کہ موصوف نیتن یاہو کی حکومت میں اُس وقت وزیر تھے، جب اکتوبر2023 میں اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی تھی ۔ اور پھر وہ فوج میں’ داحیہ نظریہ‘ کو پروان چڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ’داحیہ ‘ بیروت میں ایک علاقہ ہے، جہاں حزب اللہ کامرکزی دفتر تھا ۔ آئزن کوٹ جب فوجی سربراہ تھے، تو وہاں ایسے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے ۔ اس حملے میں ایک ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ۔اسی طرح2018ء میں جب غزہ میں فوجی کاروائی کی گئی ، توموصوف ہی فوجی سربراہ تھے ، جس میں دوسو سے زائد نہتے فلسطینی شہید ہوئے۔ اس لیے یہ سمجھ لینا کہ آئزن کوٹ ہمارے لیے بہتر ثابت ہوں گے ، نہایت ہی عجیب وغریب ہے۔ یوں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ موجود ہ انتخابات کے نتیجے میں عرب سیاسی پارٹیوں کی حیرت انگیز کامیابی بھی زمینی حقائق میں تبدیلی کی ضمانت نہیں ہے۔اور یہ حقیقت بھی پیش نگاہ رہے کہ نیتن یاہو سے عوامی ناراضگی اس لیے نہیں ہے کہ انھوں نے فلسطینیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں ، بلکہ اس لیے ہے کہ انھوں نے جنگ طویل کی اور معاشی حالات خراب ہوگئے ۔ لوگ چاہتے یہ تھے کہ نیتن یاہو بڑے پیمانے پر حملے کرکے یرغمالیوں کو جلدی رہائی دلاتے اور جنگ ختم کردیتے ۔ اس طرح ملک کے حالات جلد از جلد معمول پر آجاتے ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ لوگ نیتن یاہو کی جگہ پر کسی دوسر ے کو موقع دینا چاہتے ہیں تاکہ ملک کے معاشی حالات بہتر ہوجائیں اور اسرائیل مزید مستحکم ہوجائے ۔
چلیے ، تسلیم کرلیتے ہیں کہ آئزن کوٹ عرب سیاسی پارٹیوں کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ اب قرین قیاس یہ ہے کہ آئز ن کوٹ نہایت ہی مشکلات سے گزریں گے ۔ اگروہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھتے توعرب سیاسی پارٹیاں ناراض ہوجائیں گی اور اگر بالعکس فیصلے کرتے ہیں ، تواُن کی اتحادی سیاسی پارٹیاں حمایت سے دست بردار ہوسکتی ہیں ۔یعنی دونوں حالتوں میں وہ شدید دباؤ میں رہیں گے۔اپنے ہم مشرب کی خوشی نہ دیکھی تومشکل اور اپنے حمایتی عرب کا خیال نہ رکھا، تومشکل۔ کیا عجب کہ ایسی صورت حال میں جوڑ توڑ کے ماہر نیتن یاہو آئزن کوٹ اتحاد سے علیحدہ ہونے والوں کے ساتھ مل کر ایک بار پھر حکومت تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ ویسے آئزن کوٹ کا ماضی دیکھتے ہوئے یہ کہنا عین حقیقت ہے کہ وہ سخت گیر یہودی ہیں ۔ اُن کی پرورش وپرداخت نفرت زدہ ماحول میں ہوئی ہے ۔ اس لیے اُن سے کسی خیر کی توقع رکھنا نہایت ہی فضول ہے ۔ وہ اندر سے جیسے ہیں ، اس کے اظہار سے وہ کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس لیےبظاہر ایسی توقع نہیں ہے کہ مسلمانوں کے حالات بہتر ہوجائیں۔
صاحبو! مجھے توایسا محسوس ہوتاہے کہ عرب اگر اپنی علیحدہ پارٹی بنانے کے بجائے ، کچھ اعتدال پسند یہودیوں کے ساتھ مل کر کوئی سیاسی پارٹی بناتے تویہ کہیں بہتر ہوتا۔ اس طرح قدرے اعتدال پسند سیاسی قوت مستحکم ہوتی ، جوبہت ممکن ہے کہ دھیرے دھیرے حالات کو بہتر بنانے میں معاون ومدد گار ہوجاتی ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ’جذباتی مسلمان‘ صرف اُسی قدر دیکھتے ہیں ، جو سامنے دکھائی دیتاہے ۔ وہ طویل المیعاد منصوبے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے دائمی منفعت، سازگاری حالات اورامن وامان کے حوالے سے غور وفکر ہی نہیں کرتے۔ اب یہی دیکھیے کہ موجودہ اسرائیلی ایوان میں عرب نمائندے ہر ایسے فیصلے پر شور مچائیں گے ،جو مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے ،اور بے چارہ مسلمان پھولے نہیں سمائے گا کہ ہمارے نمائندوں نے بھری پارلیامنٹ میں اسرائیلیوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ غیر جانبداری کے ساتھ غور کیجیے گا کہ کیا یہی ہمارے مسائل کا درست حل ہے ؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ صرف شور شرابا، چیخ وپکار ا ور اظہار غیظ وغضب نہیں ، بلکہ ہمارے سنجیدہ اقدامات سے زمینی حقائق واقعی میں تبدیل جائیں ؟

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں