دو ملک‘ دوالیکشن: نتیجہ ایک
ودود ساجد
(ایڈیٹر: روزنامہ انقلاب)
دنیا بھر کے شیطانوں اور انسانی خون کے پیاسے درندوں کو 27 اکتوبر 2026 کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے جو زخم پہنچایا تھا تین نومبر 2026 کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے اس زخم کو کئی گنا گہرا کردیا۔ غزہ کے مجرم نتن یاہو کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہونے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں‘ سینیٹ اور ہائوس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پارٹی ’ریپبلکن‘ کو شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
ان دونوں واقعات کی اسرائیل اور امریکہ میں تو ایک اہمیت ہے ہی عالمی سطح پر بھی ان کی بڑی اہمیت ہے۔ دونوں واقعات دنیا بھر کے آمروں اور جابروں کیلئے بھی درس عبرت ہیں۔ جو ڈونالڈ ٹرمپ اسرائیل کے الیکشن میں نتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل کر رہے تھے اب امریکہ کے وسط مدتی الیکشن میں وہ خود بالواسطہ طور پر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوگئے۔ وہ نتن یاہو کی فتح کی خوش خبری سنارہے تھے لیکن اب تو اس کے وزیر اعظم بننے کے امکانات بھی ختم ہوگئے ہیں اور عرب پارٹیوں کے لیڈروں نے نتن یاہو کے حریف ’آئزن کوٹ‘ کی مشروط حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے نتائج میں کیفیت کے اعتبار سے صرف ایک فرق ہے : ڈونالڈ ٹرمپ صدر کے طور پر برقرار ہیں جبکہ نتن یاہو نئی حکومت نہیں بنا سکے گا۔ ہمیں ابھی امریکی سینیٹ اور ہائوس کے اختیارات اور ڈونالڈ ٹرمپ کو درپیش ممکنہ مشکلات پر بات کرنے کی عجلت نہیں ہے۔ ٹرمپ ایک با اختیار صدر ہیں اور ان کے پاس آخری ہتھیار کے طور پر ’ویٹو‘ کا اختیار بھی ہے۔ امریکہ کے 85 سالہ مشہور یہودی سینیٹر ’برنی سینڈرس‘ نے امریکی عوام سے اپنے خطاب میں کہا بھی ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ برنی سینڈرس ایک آزاد رکن کانگریس ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے خیر خواہوں میں سے ہیں۔ اس الیکشن میں بھی انہوں نے ڈیموکریٹس کیلئے دن رات کام کیا۔۔۔
برنی سینڈرس نے کہا کہ’’66 فیصد امریکی عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے ‘ شہریوں کی بڑی تعداد کو گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے‘ ایک فیصد امریکی دولتمند ملک کے 93 فیصد وسائل پر قابض ہوگئے ہیں۔‘‘ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی اعتراف کرلیا ہے کہ ’’ایران جنگ کے سبب ریپبلکن پارٹی کی شکست ہوئی اور یہ کہ لوگ اب اسرائیل سے تعلقات میں تبدیلی چاہتے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں غزہ کی تباہی نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ متعدد جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر امریکی عوام نے ’نفرت‘ اور مسلم دشمنی کو حقارت کے ساتھ مسترد کرکے بہت سے مسلم امیدواروں کو فتح سے ہم کنار کیا اور ان پر نسل پرستانہ حملوں کے باوجود عوام نے کوئی اثر نہیں لیا۔۔۔۔
ٹرمپ نے بھی تسلیم کرلیا کہ ان کی شکست ایران جنگ کی وجہ سے ہوئی اور ’ری پبلکن‘ ووٹر اس جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئے۔ آبنائے ہرمز کے محاصرہ کے سبب امریکہ کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی اور مہنگائی 50 فیصد تک بڑھ گئی۔ ملک میں تمام ضروری اشیاء کے دام کئی گنا بڑھ گئے۔ ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہرچند کہ امریکہ کا سماجی ماحول ’عوام دوست‘ ہے مگر وہاں زندگی گزارنے کیلئے مطلوب وسائل بہت مہنگے ہیں۔ 93 فیصد وسائل پر ایک فیصد امریکیوں کا تسلط ہے۔ اس سب کے باوجود وہاں کا معاشرہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے تئیں حساس بھی رہتا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطی میں جاری واقعات نے اسے بے حد متاثر کیا ہے۔۔۔۔
غزہ اور ایران پر کی جانے والی وحشیانہ بمباری کے خلاف سب سے زیادہ منظم مظاہرے بھی امریکہ میں ہی ہوئے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں وہاں کا معاشرہ نتن یاہو جیسے قاتل کے ساتھی ٹرمپ کو امریکی کانگریس میں اکثریت بخش دیتا۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی انتخابی مہم کے نکات کو اسلام اور مسلم دشمنی تک محدود کردیا تھا۔ 36 ریاستوں کے گورنر‘ 34 ریاستوں کے اٹارنی جنرل‘ سینیٹ کے 100 اور ہائوس کے 435 ممبران کے علاوہ ریاستی قانون ساز چیمبرس کے 88 اور مختلف قانون ساز اسمبلیوں کے 6139 ممبران‘ یعنی کل 6832 نشستوں کیلئے ہونے والے الیکشن میں ٹرمپ کو کوئی شہری مسئلہ نظر نہیں آیا۔ انہیں صرف اسلام اور مسلم امیدواروں کے نام ہی نظرآئے۔ مختلف اداروں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات ہزار امیدواروں میں ڈیڑھ سو کے آس پاس ہی مسلمان تھے جن میں سے 97 کامیاب ہوئے ہیں۔
435 ممبران پر مشتمل ’ہائوس‘ میں پچھلی بار تین مسلمان تھے۔ ان میں ’منی سوٹا‘ سے حجاب پوش ’الحان عمر‘ بھی تھیں۔ ان کی تقریروں اور سوالات نے شرپسند اور جابر حکمرانوں کی نیند میں خلل ڈال دیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران بھی اور پھر صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی مسلسل انہی کے نام کا وظیفہ پڑھا اور انہیں دہشت گرد تک قرار دیدیا۔ ان کی شہریت تک چھیننے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اس کے باوجود اس بار ہائوس میں الحان عمر سمیت ڈیموکریٹ پارٹی کے چھ مسلم امیدوار کامیاب ہوکر آگئے۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ریپبلکن پارٹی کا کوئی مسلم رکن کانگریس میں نہیں ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے متمول عرب ممالک ریپبلکن ٹرمپ پر نچھاور ہوئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔
اس بار پوری انتخابی مہم میں ریاست ’مشی گن ‘ سے سینیٹ کے امیدوار ’عبدالرحمن محمد السید‘ کا نام ہی بحث اور دلچسپی کا موضوع رہا۔ ان کا خاندان اصلاً مصر سے ہے۔ السید اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور عوامی صحت کے شعبہ کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔ لیکن ٹرمپ انہیں مسلسل نشانہ بناتے رہے۔ ان کا نام غلط ہجوں اور غلط تلفظ کے ساتھ لے کرہتک آمیز انداز میں پکارتے رہے۔ زیر نظر سطور میں اس نکتہ پر لکھنے کی زیادہ گنجائش نہیں ہے لیکن السید کے تعلق سے ٹرمپ کی صرف چار ہرزہ سرائیوں کا ذکر کرنا اہم ہوگا۔
ٹرمپ نے مختلف انتخابی ریلیوں میں پانچ اگست سے 25 اکتوبر کے درمیان السید کو متعدد مرتبہ (۱) جہادی (۲) شرعی قانون کے نفاذکا ارادہ رکھنے والا (۳) کمیونسٹ اور نفرت کرنے والا اور (۴) امریکہ کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے السید کو مصر کی’ممنوعہ جماعت‘ اخوان المسلمون تک سے جوڑ دیا۔ ٹرمپ نے انہیں یہودیوں اور اسرائیل کا دشمن قرار دیا اور مشی گن میں آخری جلسہ میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’اس جہادی‘ دہشت گرد اور اخوانی کو سینیٹ میں داخل ہونے سے روکنا مشی گن والوں کا فرض ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشی گن کے ساڑھے 52 فیصد ووٹروں نے انہیں ووٹ دیا۔ السید نے ٹرمپ کی ہر ہرزہ سرائی کا انتہائی خوش خلقی ‘معقولیت اور مسکت انداز میں جواب دیا۔۔۔۔
امریکی سینیٹ میں ہر ریاست کے دو نمائندے ہوتے ہیں۔اس طرح یہ 100 رکنی ایوان ہے۔ اس ایوان کی بہت سے امور میں بڑی اہمیت ہے۔ بیشتر قوانین تو اسی کی منظوری سے پاس ہوتے ہی ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ‘اٹارنی جنرل اور دوسرے ملکوں میں امریکی سفیروں کا تقرر بھی اس کی دوتہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر صدر نہیں کرسکتا۔ سب سے دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس سینیٹ کی 238 سالہ تاریخ میں آج تک کوئی مسلم رکن منتخب ہوکر نہیں پہنچ سکا۔ یہ پہلا موقع ہے جب عبدالرحمن محمد السید اس کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کو محض ایک مسلم سینیٹر کا اتنا خوف تھا کہ انہوں نے اپنے منصب کے وقار کا بھی خیال نہیں رکھا اور کم سے کم درجہ میں مطلوب اخلاقیات کو بھی پائوں تلے روندتے ہوئے ’السید‘ کو سینیٹ میں داخل ہونے سے روکنے کی تمام کوششیں کرڈالیں۔۔۔۔
’ایلون مسک‘ نے پورے ملک میں 40 بلین ڈالر الیکشن پر خرچ کئے۔ امریکی ادارہ برائے انتخابی فنڈنگ کے مطابق ان میں سے مشی گن میں السید کے حریف کے الیکشن پر تین اعشاریہ 70 ملین اور براہ راست السید کے خلاف پانچ اعشاریہ 48 ملین ڈالر خرچ کئے۔ مگر اس کے باوجود ایک مسلم امیدوار کو سینیٹ میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاسکا۔ السید نے لوگوں سے کہا کہ وہ یہودیوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ نتن یاہو جیسے جابر و قاتل کی حمایت نہیں کرسکتے اور یہ کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم غزہ کے نہتے عوام اور بھوک سے بلکتے بچوں پر بم برسانے کیلئے نہیں دی جاسکتی۔ السید کے اس واضح موقف کے باوجود مشی گن کے یہودی ووٹروں نے نہ صرف ان کی انتخابی مہم میں حصہ لیا بلکہ سروے کے مطابق 57 فیصد یہودیوں نے انہیں ووٹ بھی دیا۔
اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا 535 ارکان کے مشترکہ ہائوس میں جنوری 2027 میں پہنچنے والے تین سو سے زیادہ ڈیموکریٹس ایران جنگ اور ٹرمپ کے ’ٹیرف ٹیرر‘ کو روک سکتے ہیں؟ یہ سوال تفصیلی جائزہ کا متقاضی ہے ۔ ڈیموکریٹس ‘ٹرمپ کے قانون بنانے کے ایجنڈہ پر روک لگاسکتے ہیں‘ ان کے خلاف تحریک مواخذہ لاسکتے ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کرسکتے ہیں لیکن ان کے پاس ٹرمپ کے ’ویٹو‘ کو بے اثر کرنے کیلئے دوتہائی اکثریت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ریپبلکن کی شکست کو دیکھتے ہی ویٹو کے حق کے استعمال کی بات دوہرانی شروع کردی تھی۔۔۔
11 دسمبر کو موجودہ فنڈنگ بل کی میعاد ختم ہوجائے گی۔ لہٰذا اگلے سال جنوری میں ڈیموکریٹس اضافی بجٹ دینے میں آنا کانی کرکے ٹرمپ کیلئے ملٹری فیصلے لینے میں مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ وجہ صاف ہے کہ دائو پر فوجی جوان ہوں گے۔ لیکن بعض ناراض ریپبلکن ‘ ڈیموکریٹس کا ساتھ دے سکتے ہیں اور کوئی قانون پاس کرسکتے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وانس تو ایران جنگ کے پہلے ہی خلاف تھے۔ پچھلے ہفتہ ہی انہوں نے ایران کے سیکیورٹی چیف کو خط لکھ کر بات چیت شروع کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ ممکن ہے کہ اب وانس کا موقف اور زیادہ سخت ہوجائے۔۔۔
ٹرمپ نے نتن یاہو کی شکست کے بعد اعلان کردیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک اسرائیل کو دی جانےوالی سالانہ چار بلین ڈالر کی امداد بند کردیں گے۔ اسی پیسہ سے اسرائیل اس سے ہتھیار خریدتا رہا ہے۔ اس پر السید نے کہا کہ ٹوٹی ہوئی گھڑی بھی دن میں دو بار تو درست وقت بتاتی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ اب ٹرمپ کے اتحادی بھی خود کو ایران جنگ سے دور کر رہے ہیں۔ عرب ممالک اور خاص طور پر قطر‘ سعودی عرب اور مصر مذاکرات کے ذریعہ حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔
امریکہ اور اسرائیل کے الیکشن میں ٹرمپ اور نتن یاہو کی شکست پر بڑے پیمانے پر تجزئے لکھے جارہے ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ سب غزہ کی وجہ سے ہوا۔ اسرائیل کے الیکشن کمیشن نے یاہو اور دوسرے شرپسندوں کے الیکشن میں دھاندلی اور عرب پارٹیوں پر بدعنوانی کے الزامات کو یکسرمسترد کردیا۔ اس سلسلہ میں جن عرب لیڈروں کو پکڑا گیا تھا عدالت نے ان سب کو ایک ایک کرکے رہا کرنے کا حکم جاری کیا اور پولیس کو سخت سست سنائیں۔ اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے بھی شرپسند اور متشدد جماعتوں کے لیڈروں کو کھری کھوٹی سنائی ہیں۔
اس کرہ ارض پر بسنے والی انسانی مخلوق کے جن طبقات کو نظام الٰہی پر یقین ہے ان کیلئے یہ سب معمول کی باتیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہی دیگر کئی ملکوں میں جابروں کے تخت ہائے اقتدار الٹ گئے ہیں۔ لیکن دنیا بھر میں جن آمروں‘ جابروں‘ شیطانوں اور انسانی خون کے پیاسے درندوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ نظام الہی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ان کیلئے یہ سوچنے کا وقت ہے۔ جو بچے ہوئے ہیں ایک ایک کرکے وقت انہیں بھی ضرور آن پکڑے گا۔






