رام لیلا میدان میں اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ
رام لیلا میدان میں اکھلیش یادو نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ووٹ چوری، انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔
نئی دہلی: دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقدہ عوامی ریلی میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹوں کے نام فہرست سے خارج کیے جانے اور جمہوری اداروں کی خودمختاری سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی ریلی کا اعلان ہوتے ہی جمہوریت کے تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ ان کے مطابق اتحاد کا مقصد ان قوتوں کے خلاف مشترکہ آواز بلند کرنا ہے جن پر جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
سماج وادی پارٹی صدر نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر ایک کروڑ 27 لاکھ ووٹ حذف کیے جانے کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بی جے پی کی جانب سے بھی ووٹ کٹنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتخابی نظام میں شفافیت کے حوالے سے اہم مسئلہ قرار دیا۔اپنے خطاب میں اکھلیش یادو نے وارانسی کے انتخابی نتائج اور ووٹوں کی گنتی کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چنڈی گڑھ میں پیش آنے والے مبینہ انتخابی واقعے جیسی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے مطابق یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ انہوں نے وارانسی میں بی جے پی کی انتخابی کارکردگی پر بھی طنز کیا۔
اکھلیش یادو نے رام پور کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہاں انتخابی عمل کے دوران پولیس فورس کا استعمال کرکے ووٹروں کو متاثر کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض مقامات پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور گھروں سے باہر نکلنے پر قانونی کارروائی کی دھمکیاں دینے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے ایک خاتون ووٹر کو مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روکے جانے کے واقعے کا بھی ذکر کیا۔ریلی کو جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتر پردیش کے عوام جمہوری حقوق کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے بی جے پی کو سیاسی طور پر نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام انتخابی وقت پر اپنے فیصلے کا اظہار کریں گے۔
ایودھیا میں چندے کے مبینہ غلط استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر اور ایک بڑی کمپنی کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے انتخابی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے نوجوانوں پر مبینہ پولیس کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر اکھلیش یادو کی تقریر میں ووٹ کے حق، انتخابی شفافیت، الیکشن کمیشن کی جواب دہی اور اپوزیشن اتحاد کے سیاسی مؤقف کو نمایاں اہمیت حاصل رہی۔ واضح رہے کہ خطاب کے دوران لگائے گئے الزامات اکھلیش یادو کے سیاسی دعوے ہیں۔






