سیاسی بصیرت

10 اکتوبر: اقتدار کے قلعے میں دراڑ!

شعیب رضا فاطمی

10 اکتوبر گزر گیا، لیکن اپنے پیچھے ایسے سوالات چھوڑ گیا ہے جن سے اب اقتدار کے لیے آنکھیں چرانا آسان نہیں ہوگا۔ اس دن نے صرف حکومت کی سخت گیری کو بے نقاب نہیں کیا، بلکہ ہندوستانی سیاست کے افق پر ابھرتی ہوئی ایک نئی مزاحمتی قوت کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ قوت نہ کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر ہے، نہ کسی خاص مذہب یا ذات کی میراث۔ یہ اس نئی نسل کی آواز ہے جس نے خوف کے حصار کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرا سوچیے! کیا ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ کے مطالبات کی فہرست تک کو قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا ہو ؟ جمہوریت میں حکومت عوام کے نمائندوں کو جواب دیتی ہے، انہیں اپنی دہلیز پر سوال رکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جب منتخب نمائندوں کی آواز بھی اقتدار کے کانوں تک نہ پہنچے، جب احتجاج کے راستے بیریکیڈوں سے بند کر دیے جائیں اور شہریوں کو اپنی ہی راجدھانی میں مزاحمت کے لیے جگہ تلاش کرنی پڑے تو
سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ محض انتظامی سختی کا نہیں، جمہوری مزاج کے بحران کا ہے۔
ڈکٹیٹرشپ ہمیشہ آئین کو معطل کرکے نہیں آتی، کبھی وہ آئین کی موجودگی میں جواب دہی کو دفن کرکے بھی اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کر دیتی ہے۔
لیکن 10 اکتوبر کا سب سے بڑا انکشاف حکومت کی طاقت نہیں، اس کی طاقت کو چیلنج کرتی ہوئی نئی نسل ہے۔ بالخصوص تعلیم یافتہ لڑکیوں کی جرأت نے سیاست کے روایتی ٹھیکے داروں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ہندوستان کی عورت اب محض ووٹ دینے والی مخلوق نہیں، اپنے حقوق کے لیے لڑنے والی شہری بھی ہے۔ ٹیکنالوجی سے لیس، جدید تعلیم سے آراستہ اور مذہب، ذات پات و نسل کی دیواروں سے بلند یہ نسل برابری مانگتی ہے، رعایت نہیں، جواب دہی چاہتی ہے، احسان نہیں۔
ہم نے اس مزاحمتی قوت کی پہلی بڑی جھلک شاہین باغ میں دیکھی تھی۔ تب بھی خواتین سڑکوں پر اتری تھیں، تب بھی انہیں کمزور سمجھنے والوں نے غلطی کی تھی۔ مگر ہم نے شاہین باغ کے پیغام کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک عارضی احتجاج سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ آج نیہا بورا اور ان کے ساتھیوں کی شکل میں وہی مزاحمتی روح ایک نئے اعتماد کے ساتھ سامنے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس نسل کے پاس اپنے سوالات بھی ہیں، اپنے دلائل بھی اور خوف کے مقابل کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی۔
اقتدار شاید اب بھی سمجھ رہا ہے کہ بیریکیڈ لگا کر راستے بند کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسے کون سمجھائے کہ جب ذہن آزاد ہو جائیں تو راستے خود بننے لگتے ہیں!
اس تحریک نے ایک اور حقیقت آشکار کی ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اب محض سیاسی تماشائی بن کر رہنے کو تیار نہیں۔ وہ انتخابی شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے، اداروں کی خودمختاری کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کے ووٹ کی حرمت کی ضمانت کون دے گا۔ انتخابی بدعنوانی کے الزامات کی سچائی کا فیصلہ شواہد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات سے ہونا چاہیے، لیکن سوال کرنے والوں کو خاموش کردینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جمہوریت میں اعتماد نعروں سے نہیں، شفافیت اور جواب دہی سے پیدا ہوتا ہے۔
اس پس منظر میں راہل گاندھی کا یہ اصرار کہ ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا جائے اور کسی کو بھی بچ کر نکلنے کا موقع نہ دیا جائے، محض ایک سیاسی جملہ نہیں رہنا چاہیے۔ اگر یہ اعتماد کسی گہری سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے تو آنے والے دن اس کی حقیقت بھی واضح کر دیں گے۔ راہل گاندھی کے سامنے موقع ہے کہ وہ اس عوامی بے چینی کو محض انتخابی نعرے میں تبدیل کرنے کے بجائے جمہوری اداروں کے تحفظ کی ایک وسیع تحریک میں بدل دیں۔ انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ عوامی غصہ سیاسی قیادت کو موقع ضرور دیتا ہے، مستقل وفاداری کی ضمانت نہیں۔
اور پھر سوال موہن بھاگوت اور آر ایس ایس سے بھی ہے۔ اگر موجودہ طرزِ حکمرانی کے پیچھے کوئی نظریاتی قوت کھڑی ہے تو اسے بھی عوامی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اقتدار کی پشت پناہی کرکے جواب دہی سے بچا نہیں جا سکتا۔ جو قوتیں ہندوستان کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سماج ہمیشہ خاموش نہیں رہتا۔ اصل فیصلہ عوامی شعور، سیاسی جدوجہد اور جمہوری عمل کریں گے۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ 10 اکتوبر محض ایک تاریخ نہیں، ایک سیاسی علامت بنتا جا رہا ہے۔ اس دن نے اقتدار کو اس کی حدود یاد دلائی ہیں اور عوام کو ان کی طاقت کا احساس کرایا ہے۔ ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ تحریک کسی فیصلہ کن کامیابی تک پہنچ چکی ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے خوف کی سیاست کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔
اب اصل امتحان حکومت کا بھی ہے، اپوزیشن کا بھی اور اس نئی نسل کا بھی۔ کیا اپوزیشن اپنی مصلحتیں چھوڑ کر متحد ہوگی؟ کیا نوجوانوں کا جوش مستقل، منظم اور پُرامن جدوجہد میں بدلے گا؟ اور کیا حکومت عوامی سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں دبانے کی اپنی روش پر نظرثانی کرے گی؟
10 اکتوبر کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ اقتدار کے پاس پولیس، طاقت اور انتظامی مشینری ہو سکتی ہے، لیکن تاریخ کا رخ ہمیشہ اس کے حکم سے نہیں بدلتا۔ کبھی ایک بے خوف نسل پورے سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔
شاید ہندوستان اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں خاموشی کی جگہ سوال، خوف کی جگہ مزاحمت اور رعایا کی جگہ باشعور شہری لینے لگا ہے۔ یہ انقلاب ہے یا انقلاب کی تمہید، فیصلہ ابھی باقی ہے۔ مگر اتنا طے ہے کہ اقتدار کے قلعے کی دیوار پر پہلی دراڑ دکھائی دینے لگی ہے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام خوف زدہ ہونا چھوڑ دیں تو سب سے طاقت ور اقتدار بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں