ایس آئی آر مخالف احتجاج، آئسا کی صدر نہا بورا پھر پولیس حراست میں
دہلی میں ایس آئی آر مخالف احتجاج کے دوران آئسا کی قومی صدر نہا بورا کو پولیس نے ایک بار پھر حراست میں لے لیا۔
نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری احتجاج کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نہا بورا کو اتوار کے روز دہلی کے آر کے آشرم مارگ علاقے میں مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ وہ مظاہرین کے ایک گروپ کے ساتھ احتجاج میں شرکت کے لیے وہاں پہنچی تھیں۔متعدد نیوز ایجنسی نے نہا بورا کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی۔ تاہم وہ زیادہ دیر تک احتجاجی مقام پر موجود نہیں رہ سکیں۔ نہا بورا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہیں دیگر افراد کے ہمراہ تیزی سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
دہلی میں گزشتہ دو اکتوبر سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں نہا بورا ایک نمایاں رہنما کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، مختلف احتجاجی کارروائیوں کے بعد پولیس انہیں متعدد مرتبہ حراست میں لے چکی ہے۔ہفتے کے روز بھی نہا بورا نے احتجاج میں شرکت کی کوشش کی تھی۔ اس دوران جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں پر سخت نگرانی کے باعث انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور دہلی ہاٹ پہنچ کر مظاہرہ کیا۔ پولیس نے وہاں سے بھی انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

اتوار کو انہوں نے احتجاج کے لیے ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ نہا بورا نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرکے مظاہرے کے مقام اور وقت سے متعلق معلومات اپنے حامیوں تک پہنچائیں اور انہیں وہاں جمع ہونے کی اپیل کی۔ اس کے بعد وہ خود بھی آر کے آشرم مارگ پہنچیں، جہاں مظاہرین کے ساتھ احتجاج کیا، لیکن پولیس نے ایک بار پھر انہیں حراست میں لے لیا۔ایس آئی آر کے خلاف جاری ان مظاہروں میں نہا بورا کی مسلسل شرکت اور بار بار حراست میں لیے جانے کے واقعات نے انہیں احتجاجی تحریک کا ایک اہم چہرہ بنا دیا ہے۔





