خبرنامہ

کاکروچ جنتاپارٹی کامودی حکومت پرسخت حملہ

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اہم رہنماؤں نے رہائی کے بعد اتوار کی دوپہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پریس کانفرنس میں تنظیم کے رہنماؤں نے ہفتے کے روز حراست میں لیے جانے کے واقعے، پولیس کے مبینہ رویے اور موبائل فون ضبط کیے جانے کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کارروائی کی گئی اور انہیں اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔پریس کانفرنس سے آشوتوش رانکا، سورَو داس اور رتنا سنگھ نے خطاب کیا۔ لیکن تنظیم کے سربراہ ابھیجیت دیپکے اس موقع پر موجود نہیں تھے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، وہ اپنی دادی کے انتقال کے باعث اپنے آبائی گاؤں روانہ ہو گئے تھے۔
مودی حکومت کے خلاف سخت بیان بازی
پریس کانفرنس کے دوران آشوتوش رانکا نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں بھارت کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بزدل وزیر اعظم قرار دیا۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کے رہنما حالیہ واقعے کو مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔دوسری جانب، سورَو داس نے حکومت پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیرو مودی اور وجے مالیا جیسے افراد ملک سے باہر چلے گئے، جب کہ ان کے بقول، انہیں پرواز کے دوران جہاز سے اتار کر حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو حکومت کے مبینہ امتیازی رویے کی مثال کے طور پر پیش کیا۔
حراست کے طریقۂ کار پر سوالات
سی جے پی رہنماؤں نے ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہیں حراست میں لینے کے لیے مناسب کاغذی کارروائی نہیں کی گئی۔ سورَو داس کے مطابق، پولیس اہلکار مافیا طرز کے انداز میں آئے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے موبائل فون زبردستی ضبط کیے گئے۔سورَو داس کا کہنا تھا کہ موبائل فون حاصل کرنے کے لیے خاتون پولیس اہلکاروں کی مدد لی گئی، تاہم ان کے بقول، اس کارروائی کے دوران قانونی ضابطوں کی پابندی نہیں کی گئی۔ ان الزامات کے حوالے سے متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہے، اس لیے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
وکیل سے رابطے کے حق سے محروم رکھنے کا دعویٰ
سورَو داس نے حراست کے دوران مختلف مقامات پر منتقل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق، انہیں آر کے پورم میں رکھا گیا، جب کہ آشوتوش رانکا کو بلبھ گڑھ لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھیجیت دیپکے کو بھی کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا۔سورَو داس کے بقول، جب انہوں نے اپنے وکیل سے رابطہ کرنے کی درخواست کی تو انہیں بتایا گیا کہ حراست کے دوران انہیں ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے اس مبینہ جواب پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ان کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کیا جا سکتا ہے تو عام مظاہرین کو پولیس کارروائی کے دوران کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔
موبائل فون کلون کیے جانے کا خدشہ
پریس کانفرنس میں موبائل فون کی ضبطی کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ سورَو داس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے فون کے ساتھ ایسا کوئی عمل کیا گیا ہو سکتا ہے جس سے ان کی نجی معلومات متاثر ہوں۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے موبائل فون کی نقل، یعنی کلوننگ، کی گئی ہو سکتی ہے اور بعد میں اسی مواد کو ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔لیکن فون کلون کیے جانے یا اس کے مواد کو کسی مقدمے میں استعمال کرنے کے حوالے سے انہوں نے جو خدشات ظاہر کیے، ان کی تصدیق کے لیے کوئی تکنیکی یا سرکاری ثبوت فراہم کردہ بیان میں موجود نہیں ہے۔
مجموعی طور پر، کاکروچ جنتا پارٹی کی اس پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت پر سیاسی تنقید کے ساتھ حراست کے طریقۂ کار، وکیل سے رابطے اور موبائل فون کی رازداری جیسے معاملات اٹھائے گئے۔ اب اس معاملے میں پولیس اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا اہم ہوگا، تاکہ رہنماؤں کے الزامات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی حقیقت واضح ہو سکے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر