جموئی واقعے پر بہار حکومت پر تیجسوی یادو کی کڑی تنقید
جموئی میں طالبہ سے بدسلوکی پر تیجسوی یادو نے حکومت کو گھیرا، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
بہار کے ضلع جموئی میں نابالغ طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی بدسلوکی کے واقعے پر ریاستی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں ریاست کی بدنامی ہورہی ہے۔ تیجسوی یادو نے حکومت پر واقعے کے دفاع کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔تیجسوی یادو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شرم ناک واقعہ ہے، جس کے باعث حکومت کو ملک بھر میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت میں شامل بعض افراد جس انداز میں اس معاملے کا دفاع کررہے ہیں، وہ قابلِ غور ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اس واقعے میں حکومتی نمائندوں کے اپنے خاندان کی کوئی خاتون متاثر ہوتی تو کیا ان کا ردعمل تب بھی یہی ہوتا؟ تیجسوی نے متاثرہ طالبہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہار کی بیٹی ہے اور پورے معاشرے کے لیے بہن یا بیٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے بقول ایسے معاملے میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا اور انصاف کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
تیجسوی یادو نے پولیس کے حوالے سے کہا کہ اس واقعے میں سات سے آٹھ افراد کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔اپنے بیان میں انہوں نے سخت ترین سزا، حتیٰ کہ سزائے موت دینے کی بات بھی کہی۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب اتنا سنگین واقعہ پیش آیا ہے تو متاثرین کو انصاف دلانے کے بجائے اخلاقیات کا درس کیوں دیا جارہا ہے؟تیجسوی یادو نے کہا کہ ایسے واقعات پر محض بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں، تاکہ متاثرہ طالبہ کو انصاف مل سکے اور خواتین کے تحفظ سے متعلق عوام کے خدشات دور ہوں۔
وزیر اعلیٰ کے سابقہ بیان کا حوالہ
تیجسوی یادو نے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ پٹنہ سے مونگیر تک بلاخوف سفر کیا جاسکتا ہے اور اگر کسی نے کسی خاتون کو چھونے کی بھی جرأت کی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ اپنے اس بیان پر قائم ہیں تو انہیں اب اپنی بات پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ جموئی میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد منظر عام پر آیا۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ملزمان کی شناخت و گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ تیجسوی یادو کے بیان نے اس واقعے پر بہار کی سیاست میں جاری بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔






