غزہ امدادی جہازوں پر کارروائی مہنگی، نیتن یاہو ترکی کے نشانے پر
غزہ امدادی بیڑے پر اسرائیلی کارروائی کے خلاف ترکی نے نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس طلب کرلیا۔
غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے عالمی بحری بیڑے کو روکنے اور اس میں شامل کارکنوں کو حراست میں لینے کے معاملے نے ترکی اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ترکی نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے انٹرپول سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ترکی کے وزیرِ انصاف آکن گورلیک نے جمعہ 21 اگست کو بتایا کہ یہ درخواست غزہ جانے والے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے خلاف کارروائی سے متعلق جاری عدالتی مقدمے کے تحت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق استنبول کی گیارہویں ہائی کرمنل کورٹ میں اس معاملے کی سماعت جاری ہے، جس میں نیتن یاہو سمیت 35 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ترکی کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید جاری ہے۔ ترک حکام کا الزام ہے کہ امدادی سامان لے جانے والے کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا، ان کے خلاف مسلح کارروائی کی گئی اور انہیں ان کی مرضی کے خلاف حراست میں لیا گیا۔ترکی کے مطابق نیتن یاہو اور ایک دوسرے اسرائیلی شہری، افیک موسکووچ، کے خلاف 14 جولائی 2026 کو گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ ان احکامات کے بعد ترک وزارتِ انصاف نے وزارتِ داخلہ سے دونوں افراد کے لیے بین الاقوامی سطح پر ریڈ نوٹس کی درخواست کرنے کو کہا، جبکہ متعلقہ دستاویزات وزارتِ خارجہ کو بھی بھیج دی گئیں۔
ترک حکام نے اس مقدمے میں متعدد سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن میں انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، غیر قانونی طور پر آزادی سلب کرنا، جان بوجھ کر زخمی کرنا، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانا، سنگین نوعیت کی لوٹ مار اور بحری ذرائع پر قبضہ کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ یہ الزامات ترکی کی عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں اور ان کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔





