ترنمول میں بغاوت، باغی دھڑے نے پارٹی دفتر پر قبضہ کر لیا
ترنمول کانگریس میں بحران شدت اختیار کر گیا، باغی دھڑے نے پارٹی کے تنظیمی دفتر پر قبضے کا دعویٰ کر دیا
مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں جاری اندرونی اختلافات نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ باغی رہنماؤں کے ایک گروپ نے، جس کی قیادت رتبرت بنرجی کر رہے ہیں، کولکاتا میں واقع پارٹی کے تنظیمی دفتر پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے پارٹی کے اندر جاری سیاسی کشمکش مزید گہری ہو گئی ہے، جب کہ قیادت کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق رتبرت بنرجی کی سربراہی میں ایک وفد نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد ہفتہ کی صبح وہ اپنے حامی رہنماؤں، جن میں فرہاد حکیم، جاوید خان، سندیپن ساہا اور آخیرالزماں بھی شامل تھے، کے ساتھ کولکاتا میں واقع تنظیمی دفتر پہنچے اور وہاں اپنا بینر نصب کر دیا۔ باغی دھڑے کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمارت کے مالک سے تمام ضروری قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ہی دفتر میں داخلہ لیا۔
باغی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ان کا گروپ ہی اصل ترنمول کانگریس کی نمائندگی کرتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ اس دفتر کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دفتر پارٹی کی سیاسی تاریخ اور کارکنوں کے جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے وہ اسے اپنی تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔
دوسری جانب ممتا بنرجی کے حامی رہنماؤں نے اس کارروائی کو زبردستی قبضہ قرار دیتے ہوئے شدید اعتراض کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ باغی گروپ کو ریاستی حکومت اور پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پارٹی کے رہنما کنال گھوش نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترنمول کانگریس سے نکالے گئے بعض افراد نے ایک الگ گروپ تشکیل دے لیا ہے اور وہ بی جے پی کے مفادات کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دفتر کے اندر موجود ممتا بنرجی کی تصاویر اور دیگر پارٹی علامتوں کو باغی رہنماؤں نے نہیں ہٹایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ممتا بنرجی کو پارٹی کے مشاورتی کردار میں دیکھنا چاہتے ہیں،لیکن قیادت میں تبدیلی ضروری ہے۔ باغی دھڑے کا دعویٰ ہے کہ انہیں پارٹی کے دو تہائی سے زیادہ اراکینِ اسمبلی، متعدد سابق وزراء، کونسلروں اور ضلع نمائندوں کی حمایت حاصل ہے، اس لیے پارٹی کے انتخابی نشان اور مالی وسائل پر بھی ان کا قانونی حق بنتا ہے۔ تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی اور قانونی اداروں کی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔






