اپوزیشن جماعتوں کا چیف جسٹس کو مشترکہ خط
23 اپوزیشن جماعتوں اور ایک آزاد رکنِ پارلیمنٹ نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن سے متعلق تحفظات پر مشتمل مشترکہ خط چیف جسٹس کو ارسال کیا۔
بھارت کی متعدد اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق اپنے تحفظات چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے رکھنے کے لیے ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش کے مطابق اس خط پر 23 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکنِ پارلیمنٹ کے دستخط موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد انتخابی نظام سے متعلق خدشات کو اعلیٰ عدلیہ کے سامنے پیش کرنا ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں اتحاد، یکجہتی اور جمہوری مزاحمت کے اصولوں پر قائم ہیں اور اسی سوچ کے تحت مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں نے اس معاملے پر متفق ہو کر چیف جسٹس کو خط بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ انتخابی امور سے متعلق اپنے خدشات سے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 8 جون 2026 کو انڈیا اتحاد کی ایک اہم نشست منعقد ہوئی تھی، جس میں 21 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکنِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی، انتخابی فہرستوں اور دیگر انتخابی معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ان معاملات پر چیف جسٹس کو مشترکہ خط بھیجا جائے۔
جے رام رمیش کے مطابق اسی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے منگل کے روز 23 سیاسی جماعتوں اور ایک آزاد رکنِ پارلیمنٹ کے دستخطوں پر مشتمل خط چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کو ارسال کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گی۔دوسری جانب ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک اوبرائن نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس خط پر عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے کے نمائندوں کے دستخط بھی موجود ہیں۔ تاہم ان دونوں جماعتوں کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی اور ڈی ایم کے 8 جون کو ہونے والے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئی تھیں، جس کے باعث ان کے ممکنہ کردار پر سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فی الحال اس مشترکہ خط پر مزید سیاسی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جب کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔






