اجمیر ہائی سکیورٹی جیل میں بدنام ڈاکو جگن گجر کا قتل
راجستھان کے اجمیر کی ہائی سکیورٹی جیل میں بدنام ڈاکو جگن گجر قتل، ساتھی قیدی پر شبہ، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں۔
راجستھان کے شہر اجمیر کی ہائی سکیورٹی جیل میں قید بدنام زمانہ ڈاکو جگن گجر پیر کے روز پراسرار حالات میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد جیل انتظامیہ اور پولیس محکمہ میں کھلبلی مچ گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ ہرش وردھن، عدالتی مجسٹریٹ اور دیگر اعلیٰ افسران فوری طور پر جیل پہنچے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ڈائریکٹر جنرل جیل اشوک کمار راٹھوڑ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق قتل صبح تقریباً 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان کسی وقت کیا گیا۔ معمول کے معائنے کے دوران قیدی کی لاش ملنے پر معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر شواہد جمع کیے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
حکام کے مطابق جگن گجر کے ساتھ ایک ہی سیل میں ایک اور خطرناک مجرم بھی بند تھا، جس پر قتل کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور جیل انتظامیہ مختلف پہلوؤں سے واقعے کی جانچ کر رہی ہے تاکہ قتل کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔جگن گجر راجستھان کے ضلع دھول پور کے باڑی تھانہ علاقے کے بھوتی پورہ گاؤں کا رہنے والا تھا۔ اس کے خلاف راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی مختلف عدالتوں اور تھانوں میں قتل، اقدامِ قتل، ڈکیتی، اغوا، لوٹ مار اور دیگر سنگین جرائم کے سو سے زائد مقدمات درج تھے۔ وہ چمبل کے علاقے کے انتہائی مطلوب اور بدنام ڈاکوؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اس نے 1994 میں اپنے بہنوئی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایک شخص کو قتل کیا، جس کے بعد اس نے اپنی الگ گینگ تشکیل دی اور جرائم کی دنیا میں سرگرم ہو گیا۔ سن 2001 سے 2018 کے درمیان اس نے چار مرتبہ خودسپردگی کی، لیکن ہر بار ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے۔سن 2008 میں گجر ریزرویشن تحریک کے دوران اس نے اس وقت کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے کے باڑی میں واقع محل کو دھماکے سے اڑانے کی مبینہ دھمکی دی تھی، جس کے بعد پولیس نے اس پر 11 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ جگن گجر کی جیل کے اندر ہلاکت نے ریاست کی جیل سکیورٹی پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔






