رام مندر چندہ گھوٹالہ: آٹھ ملزمان 14 روزہ عدالتی تحویل میں
رام مندر میں مبینہ چندہ گھوٹالے کے آٹھ ملزمان 14 روزہ عدالتی تحویل میں، بار ایسوسی ایشن نے وکالت سے بھی انکار کر دیا۔
ایودھیا کے رام مندر میں چندے اور نذرانوں کی رقم میں مبینہ خرد برد اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملے میں گرفتار تمام آٹھ ملزمان کو عدالت نے مزید 14 روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کو سابقہ عدالتی تحویل ختم ہونے پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انسدادِ بدعنوانی عدالت کے خصوصی جج کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تفتیشی کارروائی اور مقدمے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی عدالتی تحویل میں توسیع کا حکم جاری کیا۔اس سے قبل خصوصی مجسٹریٹ نے تمام ملزمان کو تین روزہ عدالتی تحویل میں بھیجا تھا، جس کی مدت پیر کے روز مکمل ہوگئی۔ بعد ازاں تفتیشی ادارے کی درخواست پر عدالت نے مزید 14 دن کی عدالتی تحویل منظور کر لی تاکہ کیس کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب اس مقدمے نے قانونی حلقوں میں بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے۔ فیض آباد بار ایسوسی ایشن نے اپنی جنرل باڈی کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اس مقدمے میں گرفتار کسی بھی ملزم کی قانونی نمائندگی نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں اس مؤقف کو بار کے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل رہی۔بار ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے ایک سخت فیصلہ بھی سنایا ہے، جس کے مطابق اگر تنظیم کا کوئی وکیل ان ملزمان کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتا ہے یا ان کی وکالت قبول کرتا ہے تو اس پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مزید برآں ایسے رکن کی بار ایسوسی ایشن کی رکنیت بھی ختم کر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ رام مندر میں چندے اور چڑھاوے کی رقم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد یہ معاملہ نہ صرف عدالتی کارروائی کا حصہ بنا بلکہ عوامی اور قانونی حلقوں میں بھی وسیع بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ تفتیشی ادارے مختلف مالی دستاویزات، ریکارڈ اور دیگر شواہد کی جانچ کر رہے ہیں، جب کہ عدالت نے آئندہ سماعت تک تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔






