نیہا سنگھ راٹھورپر جھوٹی خبر، قومی کمیشن برائے خواتین کا نوٹس
نیہا سنگھ راٹھور سے متعلق غلط خبر پر قومی کمیشن برائے خواتین کا نوٹس، نیوز چینل نے معافی مانگ لی۔
نئی دہلی: معروف لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور سے متعلق مبینہ طور پر غلط خبر شائع کرنے کے معاملے میں قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے کارروائی کی اپیل کی ہے۔ اس معاملے پر گلوکارہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔اطلاعات کے مطابق، ایک نجی نیوز چینل نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نیہا سنگھ راٹھور کے بارے میں ایسی خبر شائع کی تھی، جس میں انہیں مبینہ سیکس ریکٹ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد افراد نے خبر کے مواد پر سوال اٹھاتے ہوئے متعلقہ ادارے سے وضاحت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
عوامی تنقید کے بعد متعلقہ نیوز نیٹ ورک نے تسلیم کیا کہ اس کی جانب سے شائع کی گئی خبر حقائق کے مطابق نہیں تھی۔ ادارے نے اس غلطی پر نیہا سنگھ راٹھور سے معذرت بھی کی۔ اس پیش رفت کے بعد معاملہ قومی کمیشن برائے خواتین تک پہنچا، جس نے اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنی جانب سے کارروائی شروع کی۔قومی کمیشن برائے خواتین نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ نیہا سنگھ راٹھور کو مبینہ سیکس ریکٹ سے جوڑنے والی خبروں کی اشاعت کے معاملے کا اس نے ازخود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ متعلقہ میڈیا نیٹ ورک نے عوامی مخالفت کے بعد خبر کو حقائق کے منافی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی تھی۔
کمیشن کی چیئرپرسن وجیا رہاتکر نے وزارت اطلاعات و نشریات سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں متعلقہ ریگولیٹری اداروں، انتظامی حکام اور میڈیا انڈسٹری کے خود ضابطہ کار اداروں کو ضروری کارروائی کی ہدایت دے۔اس معاملے نے میڈیا اداروں کی ذمہ داری اور خبر شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی شخص کو سنگین الزام سے جوڑنے والی خبر نہ صرف اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ اس کی نجی زندگی اور سماجی وقار پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔قومی کمیشن برائے خواتین کے اس اقدام کو خواتین کے احترام، ان کی عزتِ نفس کے تحفظ اور میڈیا میں ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے میں کیا اقدامات کرتے ہیں۔






