خبرنامہ

زیلنسکی نے خبردارکیا،امریکی شرائط سے یوکرین کی حمایت خطرے میں

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی شرائط نہ صرف ان کے ملک کے لیے شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں بلکہ ان شرائط کے باعث یوکرین اپنے اہم ترین اتحادی کی حمایت بھی کھو سکتا ہے۔ جمعہ کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے موجودہ صورتحال کو ملک کی “تاریخ کی سب سے مشکل گھڑیوں میں سے ایک” قرار دیا۔صدر نے کہا کہ یوکرین کو ایک انتہائی کٹھن فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہےیا تو قومی وقار اور خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جائے یا امریکہ جیسے اہم شراکت دار کے ساتھ اختلافات کا خطرہ مول لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے دو برس بعد ملکی عوام پہلے ہی بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں، اس لیے کسی بھی تجویز یا منصوبے کا جائزہ قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہی لیا جائے گا۔
زیلنسکی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے تیار کردہ امن منصوبے کا ابتدائی ڈھانچہ میڈیا میں لیک ہو گیا۔ اس پلان میں 28 نکات شامل ہیں جن کے مطابق یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مشرقی علاقے دونیتسک کے کچھ حصوں سے پیچھے ہٹ جائے، اپنی فوجی استعداد میں کمی کرے اور مستقبل میں نیٹو میں شامل نہ ہونے کی ضمانت دے۔ یوکرین پہلے ہی ان شرائط کو ناقابل قبول قرار دے چکا ہے، جس کی وجہ سے یہ لیک شدہ مسودہ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں خاصی بحث کا سبب بن گیا ہے۔یوکرینی صدر کے مطابق اس طرح کی کوئی بھی شرط نہ صرف ملک کی علاقائی سالمیت کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ روس کو مزید جرأت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا آغاز 2022 میں روس کے مکمل حملے سے ہوا تھا اور آج بھی ماسکو یوکرین کے تقریباً بیس فیصد علاقے پر قابض ہے۔ اس تناظر میں ایسے فیصلے جو یوکرین کی دفاعی حیثیت کو کمزور کریں، ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
صدر زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اپنے اتحادیوں کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم کسی بھی مذاکراتی منصوبے میں یوکرینی عوام کی رائے اور ملک کی آزادی کو مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امن اسی وقت ممکن ہے جب روس بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے یوکرین کی خودمختاری کا احترام کرے۔سیاسی ماہرین کے مطابق لیک شدہ امن منصوبے سے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا امریکہ آنے والے عرصے میں یوکرین پر مزید دباؤ ڈالے گا یا موجودہ پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔ فی الحال یوکرین کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے ملکی قیادت عوامی مفاد کو ترجیح دے گی اور صدر زیلنسکی آئندہ دنوں میں اتحادی ممالک سے مزید مشاورت کریں گے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر