خبرنامہ

کاربی آنگلونگ میں تشدد، انٹرنیٹ بند، احتجاج سے حالات کشیدہ

آسام کے ضلع کاربی آنگلونگ میں منگل کے روز مسلسل دوسرے دن بھی حالات کشیدہ رہے اور ایک بار پھر تشدد کے واقعات سامنے آنے کے بعد ضلع انتظامیہ نے احتیاطی قدم کے طور پر انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور افواہوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ضلع سطح کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ مظاہرین کے دو گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ پولیس کو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا اور آنسو گیس کے گولے بھی استعمال کیے گئے۔ تشدد کے دوران بعض سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ تنازع دراصل چھ دسمبر سے جاری ایک احتجاج سے جڑا ہوا ہے۔ کھیرونی تھانہ علاقے کے تحت پھیلانگپی میں مقامی قبائلی باشندے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرکاری طور پر مختص چراگاہی زمین اور ولیج گریسنگ ریزرو کی اراضی سے مبینہ غیر قانونی آبادکاری کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ یہ زمینیں مقامی لوگوں کے لیے مخصوص ہیں، لیکن ان پر باہر سے آئے افراد نے قبضہ کر رکھا ہے۔آسام حکومت کے محکمہ داخلہ اور سیاسی امور کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عوام میں “امن اور استحکام” برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔ اس حکم کے تحت مغربی کاربی آنگلونگ اور کاربی آنگلونگ دونوں اضلاع میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز مظاہرین نے کھیرونی تھانہ علاقے میں بی جے پی کی قیادت والی کاربی آنگلونگ خودمختار کونسل کے چیف ایگزیکٹو ممبر تُلی رام رونگہانگ کے مکان کو آگ لگا دی تھی، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے بھارتی شہری تحفظ ضابطے کی دفعہ 163 نافذ کر دی تھی، تاہم اس کے باوجود منگل کو دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا۔ آسام کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ہرمیت سنگھ پیر کی شام سے متاثرہ علاقوں میں خود موجود ہیں۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جھڑپوں کے دوران 34 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں ایک آئی پی ایس افسر بھی شامل ہے، جبکہ کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔کاربی آنگلونگ بھارتی آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ اراضی پر غیر ریاستی افراد کا قبضہ مقامی قبائلی حقوق کے خلاف ہے اور حکومت کو اس معاملے میں فوری اور ٹھوس کاروائی کرنی چاہیے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر