انتخابی ضابطہ خلاف ورزی،خصوصی اجلاس پر کانگریس کا شدید احتجاج
کانگریس نے خصوصی پارلیمانی اجلاس کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے کر حکومت پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا۔
کانگریس پارٹی نے 16، 17 اور 18 اپریل کو بلائے گئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق اس اجلاس کا مقصد مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں جاری اسمبلی انتخابات کو متاثر کرنا ہے، جو جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔نئی دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف جلد بازی پر مبنی ہے بلکہ اس کے پیچھے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی نیت بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب مختلف ریاستوں میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا مناسب نہیں۔
کانگریس نے حلقہ بندی (حد بندی) سے متعلق آئینی ترمیم کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایک نہایت حساس مسئلہ ہے اور اگر اسے بغیر مکمل غور و فکر کے نافذ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات خاص طور پر تمل ناڈو اور کیرالہ جیسے ریاستوں پر پڑ سکتے ہیں۔جے رام رمیش نے مزید بتایا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کو خط لکھ کر خواتین ریزرویشن بل سے متعلق ترامیم پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس کے جواب میں کھڑگے نے مشورہ دیا کہ حکومت کو الگ الگ جماعتوں سے ملاقات کے بجائے ایک مشترکہ کل جماعتی اجلاس بلانا چاہیے، جو 29 اپریل کے بعد منعقد کیا جائے جب پانچ ریاستوں میں انتخابی عمل مکمل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 24 مارچ کو بھی اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر یہی مطالبہ کیا تھا کہ انتخابات کے دوران تمام سیاسی پارٹیاں مصروف ہوتی ہیں، اس لیے کسی بھی اہم معاملے پر بات چیت بعد میں کی جائے۔ اس کے باوجود 26 مارچ کو دوبارہ خط لکھ کر بات چیت پر زور دیا گیا، لیکن کانگریس نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کل جماعتی اجلاس کی تجویز کو ہی مناسب قرار دیا۔کانگریس کا الزام ہے کہ اپوزیشن کی واضح رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت نے یکطرفہ طور پر خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا، جو جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ پارٹی نے یہ بھی یاد دلایا کہ خواتین ریزرویشن بل پہلے ہی 2023 میں منظور ہو چکا ہے، اور اس وقت بھی کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 2024 کے عام انتخابات سے نافذ کیا جائے۔





