اسرائیلی وزارت دفاع کی جانب سے امریکی اسلحہ بردارطیارے کی آمد کی ویڈیوجاری
امریکی فوجی طیارہ اسلحہ و بارود لے کر اسرائیل پہنچا، جس سے ایران و اسرائیل کشیدگی میں اضافے اور خطے میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یروشلم (بین الاقوامی خبر رساں ادارہ) — اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک امریکی فوجی کارگو طیارہ اسرائیل پہنچا، جو اسرائیل کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود لے کر آیا ہے۔ یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بڑا فوجی طیارہ، جس پر امریکی فضائیہ کے نشانات نمایاں ہیں، ایک اسرائیلی ہوائی اڈے پر اترتا ہے۔ بعد ازاں طیارے سے مختلف اقسام کا فوجی ساز و سامان اتارا جاتا ہے، جن میں اسلحہ، بارود اور دیگر دفاعی سازوسامان شامل ہے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق یہ امداد امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ اس کے دفاعی اتحاد کے تحت فراہم کی گئی ہے۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا، “یہ اسلحہ ہماری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں اپنے دشمنوں کے خلاف مزید تیاری کا موقع دے گا۔ ہم امریکہ کے شکر گزار ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔”دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھے گی، اور ایران و اسرائیل کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کے امکانات کو تقویت ملے گی۔ پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں اس امریکی اقدام پر تنقید کی جا رہی ہے اور اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے ایران پر کئی حملوں کا الزام عائد کیا تھا، جب کہ ایران کی جانب سے بھی جواباً جارحانہ بیانات اور عسکری تیاریوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اسلحہ کی یہ ترسیل ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا خطے میں قیام امن کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔بین الاقوامی مبصرین نے اس پیش رفت کو اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دفاعی قربت کا اظہار قرار دیا ہے، جب کہ بعض نے اسے ایک “خطرناک پیغام” بھی قرار دیا ہے جو خطے میں ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
امریکی فوجی کارگو طیارے کی اسرائیل آمد اور اسلحہ کی منتقلی سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی عسکری حمایت میں مکمل طور پر شریک ہے۔ تاہم، اس اقدام سے عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور امن کے متلاشی حلقے اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔





