خبرنامہ

نائب صدرجگدیپ دھنکھڑ کا اچانک استعفیٰ: سیاست میں نئی گونج

جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفے نے بھارتی سیاست میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انھوں نے اپنی صحت کو استعفے کی وجہ قرار دیا، حالاں کہ ان کا عہدہ اگست 2027 تک باقی تھا۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو صرف ایک ذاتی قدم نہیں مانا جا رہا بلکہ اسے وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔دھنکھڑ کا سیاسی سفر کئی موڑ لیتا رہا۔ وہ ابتدا میں جن سنگھ سے وابستہ رہے، بعد ازاں کانگریس میں شامل ہوئے اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کا حصہ بنے۔ 2019 میں جب وہ مغربی بنگال کے گورنر مقرر ہوئے تو ان کا ممتا بنرجی حکومت سے مستقل تصادم خبروں کا حصہ بنا۔نائب صدر بننے کے بعد انھوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر ذمہ داری سنبھالی، لیکن اپوزیشن جماعتوں سے ان کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے۔ دسمبر 2024 میں اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ نے ان کے خلاف عدم اعتماد کا نوٹس بھی پیش کیا۔
حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر ان کے تند و تیز تبصروں نے عدلیہ سے ان کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انھوں نے عدالت کے آرٹیکل 142 کے استعمال کو ’ایٹمی میزائل‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ عدالتیں صدر جمہوریہ کو حکم نہیں دے سکتیں۔ان کے استعفے کے بعد کانگریس رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر حیرت کا اظہار کیا اور لکھا کہ انھوں نے شام 5 بجے تک دھنکھڑ سے ملاقات کی اور ساڑھے سات بجے فون پر بھی بات کی۔ ان کے بقول یہ فیصلہ نہ صرف غیر متوقع بلکہ ناقابلِ فہم بھی ہے۔معروف صحافی نیرجا چودھری کا کہنا ہے کہ استعفیٰ ممکنہ طور پر صحت کی بنیاد پر ہی ہوا ہے کیوں کہ دھنکھڑ کئی بار بیمار رہے اور اسپتال میں داخل بھی ہوئے، مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ایک متنازع شخصیت بن چکے تھے اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی قیادت سے بھی ان کے اختلافات ممکن تھے۔
دوسری طرف سینئر صحافی رشید قدوائی نے اشارہ دیا ہے کہ استعفیٰ کا تعلق بی جے پی میں قیادت کی ممکنہ تبدیلی اور پارٹی کے اندرونی معاملات سے ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر صحت ہی وجہ ہوتی تو استعفیٰ پارلیمانی اجلاس سے پہلے دیا جاتا۔استعفیٰ کے دن پارلیمنٹ میں ایک دلچسپ لمحہ اس وقت آیا جب بی جے پی صدر جے پی نڈا نے شور شرابے کے دوران کہا کہ “کچھ بھی ریکارڈ پر نہیں جائے گا، صرف میری بات ہی ریکارڈ پر جائے گی”، حالانکہ یہ بات عام طور پر صرف اسپیکر یا چیئرمین کی جانب سے کہی جاتی ہے۔جگدیپ دھنکھڑ کا تعلق راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے ایک گاؤں سے ہے۔ انھوں نے اپنی تعلیم مقامی اسکولوں، چتوڑ گڑھ کے سینک اسکول اور بعد ازاں جے پور کے مہاراجہ کالج اور راجستھان یونیورسٹی سے حاصل کی۔وکالت میں کامیاب کیریئر کے بعد انھوں نے 1989 میں جھنجھنو سے لوک سبھا کا انتخاب جیتا اور مرکزی وزیر مملکت بھی بنے۔ بعد ازاں کانگریس میں شمولیت اختیار کی مگر کامیابی نہ ملی۔ 2003 میں بی جے پی میں شامل ہو کر ریاستی سیاست میں قدم رکھا۔ان کا استعفیٰ ایک ایسا فیصلہ ہے جو بظاہر ذاتی معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات اور اس کے پس پردہ وجوہات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ صرف صحت کا معاملہ تھا یا کوئی بڑی سیاسی چال۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ ایسے فیصلے بھارت جیسے ملک میں خالی جگہ نہیں چھوڑتے، بلکہ کئی نئے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر