خبرنامہ

امریکہ: پاکستان سے تعلقات، بھارت دوستی پر اثر نہیں ڈالیں گے

کوالالامپور۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات بھارت کے ساتھ واشنگٹن کے تاریخی اور گہرے روابط پر کسی قسم کا منفی اثر نہیں ڈالیں گے۔مارکو روبیو نے یہ بات ملیشیا میں ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا بھارت، امریکہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے؟ اس پر روبیو نے جواب دیا:
’’درحقیقت انہوں نے ایسا کوئی براہِ راست ردِعمل نہیں دیا۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ فطری طور پر محتاط ہیں کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی طور پر تناؤ رہا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہ ادراک ہے کہ امریکہ کو مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے پڑتے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے کا ایک نیا موقع دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، “یہ ہمارا کام ہے کہ ہم سمجھیں کن کن ممالک کے ساتھ مشترکہ مفادات پر مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات اسی وسیع تر خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔”
امریکی وزیرِ خارجہ نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ بھارت سفارت کاری کے میدان میں کافی پرِپَک اور حقیقت پسند ملک ہے۔ دیکھئے، بھارت کے تعلقات ایسے ممالک سے بھی ہیں جن کے ساتھ ہمارے سفارتی روابط نہیں ہیں۔ یہ ایک بالغ اور عملی خارجہ پالیسی کی علامت ہے۔‘‘روبیو نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ جو بھی اقدامات کر رہا ہے، وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی قیمت پر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، “بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات گہرے، تاریخی اور انتہائی اہم ہیں، اور یہ دوستی کسی تیسرے ملک سے تعلقات بڑھانے سے متاثر نہیں ہوگی۔”ذرائع کے مطابق، واشنگٹن نے حالیہ مہینوں میں پاکستان کے ساتھ تجارتی، معدنیاتی اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ حکمتِ عملی جنوبی ایشیا میں توازن برقرار رکھنے اور خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے۔
دوسری جانب، بھارت نے بھی اس معاملے پر کسی سرکاری ردِعمل سے گریز کیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو “کلیدی اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کی حیثیت سے دیکھتا ہے، جو ٹیکنالوجی، تجارت، دفاع اور عالمی سلامتی جیسے شعبوں میں مزید مضبوط ہو رہی ہے۔مارکو روبیو کے اس بیان کو ماہرین جنوبی ایشیا میں امریکی خارجہ پالیسی کے توازن کا اشارہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعاون کو بیک وقت برقرار رکھنا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر