ایران کے خلاف جنگ دنیا میں افراتفری کے لیے امریکہ ذمیدار
پی چدمبرم
سابق وزیر داخلہ و فینانس
ایران کے خلاف اس ناسمجھی پر مبنی جنگ کے نتائج، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی، پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور اس کے اثرات بہت دور تک پھیل رہے ہیں۔آپریشن ایپک فیوری کے صرف دو ہفتوں میں ایران کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر وہ شکست نہیں کھایا۔ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کی اعلیٰ قیادت کی پہلی صف، جس میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شامل تھے، ختم کر دی گئی۔ ایران نے جلدی میں ایک نیا رہنما منتخب کرنے اور نئی فوجی قیادت قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن امریکہ۔اسرائیل اتحاد نے اعلان کیا کہ انہیں بھی ختم کر دیا جائے گا۔تہران، سنندج، اصفہان اور ایران کے دیگر بڑے شہروں پر بمباری کی گئی ہے۔ اب تک تقریباً 1300 ایرانی شہید اور 10,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی ٹا م ہاک میزائل نے ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں 168 طا لبات اور 14 اساتذہ مارے گئے۔ انہوں نے آخر ایسا کون سا جرم کیا تھا؟
بے پناہ تباہی
٭ ایران کو پہنچنے والے وسیع نقصان میں ٭ فوجی اہداف جیسے میزائل لانچنگ سائٹس، فوجی اڈے، بحری اثاثے، فضائی دفاعی نظام اور پیداواری تنصیبات ۔گھر، اسکول اور ہسپتال ٭ بڑے تیل کے ذخائر (جو اب بھی جل رہے ہیں) ٭ بنیادی ڈھانچہ جیسے پانی کی فراہمی، ڈی سیلینیشن پلانٹس وغیرہ ٭ عوامی صحت کے بڑے خطرات ٭ اور ماحولیات کو شدید نقصان
ایران کی حکومت کی نوعیت کو ایک طرف رکھ دیں، جو کہ بلاشبہ سخت گیر سمجھی جاتی ہے، اور صرف عام لوگوں پر توجہ دیں۔ آخر انہوں نے ایسی تباہی کا کیا قصور کیا ہے؟امریکہ نے، اسرائیل کے اکسانے پر، یہ الزام لگایا کہ ایران نے افزودہ یورینیم کاذخیرہ کر رکھا ہے اور وہ تقریباً جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کو قطر کی مدد سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھیجا گیا۔جنگ کے خدشے کے پیش نظر عمان کے وزیر خارجہ واشنگٹن پہنچے تاکہ امریکہ کو یقین دلائیں کہ ایران نے افزودہ یورینیم کا صفر ذخیرہ رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے اور یہ عہد کیا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ لیکن اس یقین دہانی کو نظر انداز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اچانک مذاکرات ختم کر دیے اور ایران پر حملے کا حکم دے دیا۔ایران ممکن ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندی کے لیے خطرہ ہو، لیکن وہ امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ جون 2025 میں آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے بعد جسے ایک غیر قانونی حملہ کہا گیا امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔اگر اس کے باوجود ایران تقریباً جوہری ہتھیار بنا چکا تھا تو وہ کہاں ہیں؟کیا امریکہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ایران کا معائنہ کرنے اور رپورٹ دینے کو کہا؟امریکہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سا ملک جوہری ہتھیار رکھ سکتا ہے اور کون نہیں؟کیا امریکہ بھارت، پاکستان یا شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کو بھی مٹا دینے کا فیصلہ کرے گا؟
خاموشی کی شراکت داری
مغربی ایشیا کے خطے میں اسرائیل کے کئی دشمن ہیں۔ اس کی جڑیں اس وقت سے جڑی ہیں جب فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل قائم کیا گیا۔ اس کے باوجود برسوں کے دوران دنیا، حتیٰ کہ اسلامی ممالک نے بھی اسرائیل کے وجود کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیا۔اگرچہ بھارت نے 1947 میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے خلاف ووٹ دیا تھا، لیکن بعد میں ستمبر 1950 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور 1992 میں مکمل سفارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ اس کے بعد تجارت، فوجی تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں یہ تعلقات مضبوط ہوتے گئے۔مغربی ایشیا کے تنازعات میں بھارت پہلے اعتدال کی آواز سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ حال ہی میں بھارت نے 12 مارچ 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی حمایت کی جس میں صرف ایران کی مذمت کی گئی۔، یونان، قبرص اور عرب ممالک شامل تھے، تو اس نے خطے کی نئی صف بندی کی طرف اشارہ کیا۔افریقی اور بحیرہ؟ روم کے ممالک کو شدت پسند شیعہ اتحاد اور ابھرتے ہوئے شدت پسند سنی اتحادکے خلاف اکسانے کے باوجود بھارت نے ایک لفظ بھی احتجاج کا نہیں کہا۔ ٹرمپ کے اہداف وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ پہلے مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا تھا، پھر اسے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے اور حکومت کی تبدیلی تک بڑھا دیا گیا، اور آخرکار اسے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک پہنچا دیا گیا۔ توقع کے مطابق، ایران کے عوام سے ان کی یہ اپیل کہ ‘‘اپنی حکومت خود سنبھال لو، یہ تمہارا حق ہے’’ بے اثر ثابت ہوئی۔ ٹرمپ کی مہم جوئی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی ہیں۔ امریکہ میں مہنگائی اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ایران کے کنٹرول میں موجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت تقریباً رک گئی ہے۔ بھارت میں ایل پی جی سلنڈر کم یاب ہو گئے ہیں اور ان کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں گر چکی ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ جنگ روزانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا خرچ کروا رہی ہے۔ اس جنگ کی انسانی قیمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
جنگ سب کو بے نقاب کر دیتی ہے
مشہور فوجی جنرل ڈوائٹ آئزن ہاور نے کہا تھا کہ جنگ ظالمانہ، بے فائدہ اور احمقانہ ہوتی ہے۔ چار سال پہلے روس نے یوکرین پر حملہ کیا مگر وہ جنگ جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی دوران روس کا قرض بڑھ گیا، تیل کی آمدنی کم ہو گئی اور روسی فوج کو کرائے کے جنگجو استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایران میں بھی امریکہ کی جانب سے جنگ روکنے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ چونکہ یہ جنگ زیادہ تر مشینوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے، اس لیے جب تک یہ وسائل موجود ہیں امریکہ جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔
جب کوئی ملک جنگ شروع کرتا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کب روکنا ہے۔ جنگ ہر ملک اور ہر شخص کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو بھارت نے اس کی مذمت نہیں کی بلکہ کہا کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہے۔ اسی طرح کے بیانات اس وقت سننے میں نہیں آئے جب امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کیا تھا۔ موجودہ مغربی ایشیا کی جنگ میں بھی ایسے بیانات واضح طور پر غائب ہیں۔امریکہ، اسرائیل اور ایران کی اس جنگ کے پیچھے نسلی اور مذہبی عوامل بھی موجود ہیں۔ اسرائیل ایک سامراجی ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعاون کر کے امریکہ ان اصولوں سے دستبردار ہو رہا ہے جن پر وہ قائم ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ افسوس کہ بھارت کی اپنی غلط پالیسیوں نے اسے ان لوگوں کے سامنے لرزتا ہوا محتاج بنا دیا ہے جو اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ ‘‘طاقت ہی حق ہے’’۔طاقت ہی سب کچھ ہے۔‘‘





