ایران میں امریکی ایف 15 طیارہ گر کرتباہ، عملے کی تلاش جاری
امریکی F‑15 طیارہ ایران میں گر گیا، عملے کی تلاش کے لیے سیرچ اور ریسکیو مشن جاری ہے، حالات غیر یقینی ہیں۔
گزشتہ چند گھنٹوں میں عالمی میڈیا میں ایک اہم خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ کا ایک لڑاکا طیارہ، مبینہ طور پر F‑15، ایران کے جنوبی حصے میں گر گیا اور اس کے عملے کے لیے تلاش و ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ یہ معلومات امریکی ذرائع اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے مشترکہ طور پر رپورٹ کی ہیں۔ابتدائی طور پر ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے اور عملے کے افراد زندہ ہیں، جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ بھی کیا کہ مقامی شہریوں کو پائلٹ یا عملے کے کسی فرد کو زندہ پکڑنے پر انعام دیا جائے گا۔
اس کے بعد امریکی میڈیا کے بڑے ذرائع بشمول سی بی ایس نیوز نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے تصدیق کی کہ امریکی F‑15E لڑاکا طیارہ ایران میں گر گیا ہے اور دو رکنی عملے کی تلاش کے لیے خصوصی ریسکیو آپریشن چل رہا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ طیارہ دشمنی میں مارا گیا یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرا۔ پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تاحال باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی ریسکیو ٹیمیں جن میں HH‑60 ہیلیکاپٹرز اور C‑130 جیسے مددگار طیارے شامل ہیں ۔متاثرہ علاقے میں پرواز کر رہی ہیں تاکہ عملے کو تلاش اور بچانے کی کوششیں تیز کی جا سکیں۔تاہم صورتحال ابھی تک غیر یقینی ہے:
امریکی فوج نے اب تک اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہےاور یہ واضح نہیں کہ عملے کے افراد کس حالت میں ہیں اور وہ کہاں ہیں۔گزشتہ چند دنوں میں ایرانی دعووں اور امریکی بیانات میں تضاد بھی دیکھا گیا ہے، جس سے صورتحال کی پیچیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ واقعہ خطے میں موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، اور عالمی طاقتوں کی پالیسیاں اور ردعمل اہم موضوع بن رہے ہیں۔اس واقعے سے امریکی جنگی پالیسی پر پھر سوال اٹھنے لگیں ہیں۔





