راہل گاندھی کی متنازع کتاب پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ
راہل گاندھی نے نروانے کی غیرشائع کتاب پر پارلیمنٹ میں اقتباس پڑھا، حکومت نے قواعد کا حوالہ دے کر اعتراض اٹھایا۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بدھ کے روز پارلیمنٹ میں سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے کی ایک غیر شائع شدہ کتاب کی نقل لے کر پہنچے۔ اس کتاب کے مندرجات کو لے کر گزشتہ چند دنوں سے سیاسی حلقوں میں خاصی بحث جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی نے اس سے قبل پیر کے روز ایوان میں ایک مضمون کے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی تھی جو رسالہ کارواں میں شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون جنرل نروانے کی آئندہ شائع ہونے والی کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘پر مبنی تھا۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے اس پر اعتراض کیا اور سوال اٹھایا کہ جب کتاب باضابطہ طور پر شائع ہی نہیں ہوئی تو اس کے اقتباسات کو پارلیمنٹ میں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کتاب کی کاپی دکھائی اور کہا کہ حکومت اور اسپیکر دونوں یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی کتاب موجود نہیں، حالانکہ یہ جنرل نروانے کی تحریر ہے جس میں لداخ کے حالات کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایوان میں اس کتاب کا حوالہ دینے سے روکا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کتاب میں ذکر ہے کہ جب چینی افواج کی نقل و حرکت کی اطلاعات ملیں تو اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر رابطے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروانے نے اُس وقت کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ سے رہنمائی طلب کی، تاہم فوری جواب نہیں ملا۔ مزید یہ کہ مختلف اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کی گئی مگر واضح ہدایت موصول نہ ہو سکی۔ بعد ازاں وزیرِ دفاع نے کہا کہ وہ اس معاملے پر اعلیٰ ترین سطح سے رائے لیں گے۔
راہل گاندھی کے مطابق کتاب میں یہ بھی بیان ہے کہ اگر چینی افواج سرحد کے اندر آئیں تو پیشگی اجازت کے بغیر فائرنگ نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت صورتحال کو سنجیدہ سمجھ رہی تھی کیونکہ ٹینک مبینہ طور پر بھارتی علاقے میں داخل ہو چکے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم نے پیغام دیا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب قدم اٹھایا جائے۔یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کتاب جنوری 2024 میں منظرِ عام پر آنے والی تھی، تاہم بھارتی فوج اس کے مندرجات کا جائزہ لے رہی ہے۔ پیر کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے قاعدہ نمبر 349(1) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیر مصدقہ مواد، اخباری تراشوں یا ایسی کتابوں پر ایوان میں بحث کی روایت نہیں رہی۔ اسی بنیاد پر حکمراں جماعت راہل گاندھی کے اقدام پر اعتراض کر رہی ہے۔





