بہار میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اُدیوگ وارتا اقدام
بہار حکومت کی اُدیوگ وارتا سرمایہ کاروں کو موقع، صنعتیں لگانے، روزگار بڑھانے، سہولیات بہتر بنانے اور صنعتی ترقی فروغ دینے کیلئے۔
بہار میں صنعتی ترقی کو نئی رفتار دینے کے مقصد سے شروع کی گئی حکومتِ بہار کی پہل ’’اُدیوگ وارتا‘‘ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے درمیان غیر معمولی طور پر مقبول ثابت ہو رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت ریاست میں سرمایہ کاری کے خواہش مند صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کو یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے کہ وہ براہِ راست ریاست کے چیف سکریٹری سے ملاقات کریں اور اپنی تجاویز، مسائل اور منصوبوں کو ان کے سامنے رکھ سکیں۔ اُدیوگ وارتا کی دوسری نشست میں ریکارڈ تعداد میں 32 صنعتی نمائندوں نے شرکت کی اور بہار میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام بہار کو ملک کے ایک ابھرتے ہوئے صنعتی مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر سرمایہ کار بہار کے ہی باشندے یا بہاری نژاد صنعت کار ہیں، جو اپنے آبائی صوبے میں صنعتیں قائم کر کے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں اور نوجوانوں کی دوسرے ریاستوں کی طرف ہجرت کو روکنے کا خواب رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ بہار میں ہنر، محنت اور صلاحیت کی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف بہتر سہولیات اور سازگار ماحول کی ہے۔
اُدیوگ وارتا کے دوران دودھ کی پیداوار اور اس سے متعلق مصنوعات، بہار فلم سٹی کے قیام، بجلی سے وابستہ مصنوعات کی مینوفیکچرنگ یونٹس، فرنیچر، تعلیمی اداروں اور اسپتال کے شعبے، چمڑے کے سامان کی تیاری اور برآمدات، نیز گنے کی صنعت کے فروغ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ سَویرا کینسر اینڈ ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بپن کمار جھا نے روبوٹک سرجری میں سرمایہ کاری اور حکومت کے ساتھ شراکت داری کی خواہش ظاہر کی۔کوکا کولا ایس ایل ایم جی کے ڈائریکٹر سدھارتھ لادھانی نے بھی چیف سکریٹری کے ساتھ بہار میں صنعت قائم کرنے کے منصوبے پر تفصیلی گفتگو کی۔ وہیں اشوک لیلینڈ کے وائس پریزیڈنٹ یشپال ساچر نے ریاست میں الیکٹرک بس بنانے کی یونٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی اور خواتین کے لیے ’’پنک بس‘‘ منصوبے کے تحت ڈرائیونگ اسکول شروع کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ سرمایہ کاروں نے درآمد و برآمد کے عمل کو آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بہار کے چیف سکریٹری پرتیہ امرت نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ریاست میں صنعتوں کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سرمایہ کاری اور صنعتی پالیسی میں ترمیم سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ زمین یا انتظامی رکاوٹوں سے جڑے معاملات پر متعلقہ محکموں کو فوری ہدایات دی گئی ہیں۔ اب ’’اُدیوگ وارتا‘‘ بہار میں سرمایہ کاری کے خواہش مند افراد کے لیے ایک ون اسٹاپ حل بنتی جا رہی ہے، جبکہ اس کی تیسری میٹنگ 19 دسمبر کو منعقد ہونے والی ہے۔





