بہار کی سیاست میں ہلچل تیز، لالو خاندان پھر اختلاف میں گھرا
لالو خاندان کی اندرونی لڑائی، بدلتی وفاداریاں اور رسہ کشی نے آر جے ڈی کو سیاسی طور پر کمزور کر کے بہار کی سیاست میں نئی بحث چھیڑی۔
بہار کی سیاست میں لالو پرساد یادو کا خاندان محض ایک سیاسی گھرانہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے ایک پوری سیاسی طاقت اور مضبوط ادارہ تصور کیا جاتا تھا۔ برسوں تک یہ تاثر عام رہا کہ حکومت تک رسائی صرف اسی کی ہے جو لالو کے ساتھ کھڑا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ منظرنامہ بدلا اور یہ مضبوط خاندان اندرونی اختلافات، ناراضگیوں اور باہمی کشمکش کے باعث خود اپنے لیے سیاسی داؤ پیچ بن گیا۔ رفتہ رفتہ رشتوں کی گرہیں ڈھیلی ہوئیں، وفاداریاں بدلیں اور اس خاندانی تناؤ نے آر جے ڈی کی جڑوں کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔لالو خاندان کے اندر اختلافات کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ اس کی بنیاد اُس دور میں پڑی جب لالو یادو پہلی مرتبہ 1990 کے عشرے میں بہار کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی زمانے میں ان کے سسرالی رشتے دار، خصوصاً سسرالی بھائی سادھو یادو اور سوبھاش یادو، تیزی سے سیاست میں داخل ہوئے اور اثر و رسوخ حاصل کرنے لگے۔ جب 1997 میں لالو کی اہلیہ رابڑی دیوی نے وزیر اعلیٰ کا قلمدان سنبھالا تو مخالفین نے اسے ’’گھر کے اندر ہی حکومت‘‘ قرار دیا۔ اسی دور میں سادھو یادو کا سیاسی اثر بڑھا اور وہ آر جے ڈی کے پلیٹ فارم سے رکن پارلیمان بھی منتخب ہوئے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اور لالو–رابڑی کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں جن کی پشت پر خاندان میں طاقت کے تقسیم کا جھگڑا تھا۔
سادھو یادو کو شکایت رہی کہ انہیں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ خود کو مستحق سمجھتے تھے۔ نئی نسل کے رہنماؤں، خصوصاً تیجسوی اور تیج پرتاپ، سے بھی ان کی نبھ نہیں بنی۔ 2005 میں جب آر جے ڈی اقتدار سے باہر ہوئی تو سادھو یادو نے کھل کر خاندان کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی عوامی پلیٹ فارم کے بجائے خانوادے کی نجی میراث بن چکی ہے۔ بالآخر 2009 میں انہوں نے آر جے ڈی سے علیحدگی اختیار کرکے کانگریس کا ساتھ پکڑ لیا۔ یہ قدم خاندان میں پہلا بڑا بغاوتی واقعہ سمجھا گیا۔ رابڑی دیوی نے بھی انہیں ’’خاندان مخالف‘‘ قرار دیا تھا۔
لالو کے دوسرے سسرالی بھائی، سوبھاش یادو، بھی تنظیمی سطح پر خاصی اہمیت رکھتے تھے۔ ان کے اور لالو کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب سوبھاش نے خود کو پارٹی کی مستقبل قیادت کا حق دار سمجھنا شروع کر دیا۔ کئی مواقع پر انہوں نے لالو اور رابڑی کے فیصلوں سے اختلاف ظاہر کیا، جس نے دونوں کے تعلقات کو سرد کر دیا۔ بعدازاں وہ سیاست سے پیچھے ہٹ گئے، مگر اس کشمکش نے خاندان اور سسرالی رشتوں میں دراڑیں واضح کر دیں۔لالو یادو کے جیل جانے کے بعد پارٹی کی باگ ڈور اگلی نسل کے ہاتھ میں آئی۔ تیجسوی یادو کو خاندانی اور سیاسی جانشین قرار دیا گیا، جس سے بڑے بھائی تیج پرتاپ نے خود کو پس منظر میں جاتا ہوا محسوس کیا۔ یہی احساس رفتہ رفتہ خاندانی سیاست میں ایک نئی کشمکش کا دروازہ کھولتا دکھائی دینے لگا۔





