بی بی سی میں ہلچل! ٹرمپ ڈاکیومینٹری تنازع پر اعلیٰ قیادت مستعفی
ٹرمپ تقریر ایڈیٹنگ تنازع پر بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیڈ آف نیوز مستعفی، ادارے پر جانبداری کے الزامات۔
لندن۔ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی میں ایک بڑا ادارہ جاتی بحران اس وقت پیدا ہو گیا جب ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبورہ ٹرنَس دونوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بی بی سی کے پروگرام پینوراما کی ایک دستاویزی فلم پر یہ الزام لگا کہ اس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کو اس طرح ایڈٹ کیا گیا کہ ناظرین کو گمراہ کن تاثر ملا۔برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ایک اندرونی بی بی سی میمو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے دو الگ حصوں کو جوڑ کر پیش کیا گیا، جس سے یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے کیپٹل ہل فسادات کی براہِ راست حوصلہ افزائی کی۔ درحقیقت، ان جملوں کے درمیان تقریباً پچاس منٹ کا وقفہ تھا۔
ٹم ڈیوی جو گزشتہ پانچ برس سے ادارے کے سربراہ تھے، نے کہا کہ “بی بی سی ایک عوامی ادارہ ہے، ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ہمیں شفاف اور جوابدہ رہنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ تنازع ان کے استعفے کی واحد وجہ نہیں، تاہم اس نے ان کے فیصلے پر اثر ضرور ڈالا۔ہیڈ آف نیوز ڈیبورہ ٹرنَس نے بھی اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ “پینوراما تنازع نے ادارے کو نقصان پہنچایا ہے اور بطور ذمہ دار سربراہ میں یہ عہدہ چھوڑ رہی ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ ایڈیٹنگ کی خامیاں سامنے آئیں، مگر یہ تاثر غلط ہے کہ بی بی سی ادارہ جاتی طور پر متعصب ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ان استعفوں پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ “بی بی سی کی قیادت مستعفی ہو رہی ہے کیونکہ وہ میری مکمل درست تقریر میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ بی بی سی کی تاریخ میں پہلی بار ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیڈ آف نیوز نے ایک ہی دن اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، یہ استعفے اس وقت سامنے آئے ہیں جب بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں، جہاں ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ امریکی صدر کی تقریر کی ایڈیٹنگ پر باضابطہ معذرت کریں گے۔مزید یہ کہ ٹیلی گراف کی رپورٹ میں بی بی سی عربی سروس کی اسرائیل-غزہ جنگ سے متعلق رپورٹنگ پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس نے ادارے پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔ماہرین کے مطابق یہ تنازع بی بی سی کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ادارے کو اپنی ادارتی پالیسیوں میں زیادہ شفافیت اور غیر جانب داری یقینی بنانا ہو گی تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔





