سیاسی بصیرت

تومسجد ضرارکی حقیقت کھل ہی گئی

محمد حیدر رضا

کچھ مہینے قبل، ملک بھر میں ہمایوں کبیر کے نام کا اچانک بڑا چرچا ہوا تھا۔ وہی ہمایوں جنہوں نے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں “بابری مسجد” تعمیر کرنے کی ایک مہم چھیڑ رکھی تھی۔ مجھے شروع سے یہ احساس تھا کہ اس شخص نے جس مسجد کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ آج کی ‘مسجد ضرار’ ہے (منافقوں نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے ایک مسجد بنائی تھی۔ قرآن حکیم نے اسے ‘مسجد ضرار’ یعنی نقصان پہنچانے کے غرض سے بنائی گئی مسجد کا نام دیا۔ غزوۂ تبوک سے واپسی کے وقت، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک حکم پر، اسے نذر آتش کر دیا گیا تھا). ورنہ، بھلا ایک ایسا آدمی جس کا مذہب سے کبھی کوئی سروکار نہیں رہا، اچانک سے اس نے ایک مسجد کی تعمیر کے لیے تحریک کیوں چھیڑ رکھی تھی؟ اور اگر اللہ عزوجل نے توفیق دے ہی دی (کیوں کہ احادیث طیبہ کے مطابق، وہ ذات پاک اپنے دین کا کام فاسق و فاجر سے بھی لے لیا کرتی ہے) تو اس کا نام بابری مسجد ہی کیوں؟؟ نیز، مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل ہی کیوں یہ ڈراما رچا گیا تھا؟؟؟

لیکن میں یہ سب اب کیوں بیان کرنے لگا ہوں؟ در اصل، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ٹویٹر (X) پر آج ہمایوں کبیر کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ پارٹی نے بی جے کو ٹیگ کرتے ہوے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو ایک اسٹنگ آپریشن میں ریکارڈ ہوئی تھی جو مغربی بنگال کے خلاف بھاجپا کی گھناؤنی سازش کو بے نقاب کرتی ہے (پارٹی نے اس حوالے سے آج متعدد ٹویٹس کیے ہیں)۔ ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ ساگا ریکا گھوش نے بی جے پی پر سیاسی عیاری کا الزام لگاتے ہوے، اس ویڈیو کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ویڈیو
‘Masadur Rahman’
نام کے ایک غیر معروف چینل نے ‘The Reality of HK’
کے عنوان سے یوٹیوب پر کل اپلوڈ کی تھی۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ (تا دم تحریر) محض سینتالیس سبسکرائبرز والے چینل پر انیس منٹ کے اس طویل ویڈیو کو، اب تک چودہ ہزار سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔ اس میں ہمایوں نے اعتراف کیا ہے کہ بھاجپا کے ساتھ ان کا ایک ہزار کروڑ روپے کا سودا ہوا تھا جس کا مقصد ہے مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم اور بنگال کی کرسی سے ممتا بنرجی کو دور رکھنا (پہلے تو ایک ہزار کروڑ کی اتنی بڑی رقم جان کر میرے ہوش اڑ گئے۔ پھر غور کیا کہ جو بی جے پی ایک ایک ایم ایل اے کو ‘خریدنے’ کے لیے پچاس سے سو کروڑ تک خرچ کر سکتی ہے، اس کے لیے پوری ریاست کے نتائج کو متأثر کرنے کے لیے ایک ہزار کروڑ تو منافع کا ہی سودا تھا۔ تو استعجاب جاتا رہا۔)۔

یہاں اس کا ذکر بالکل بھی بے جا نہیں ہوگا کہ مغربی بنگال انتخابات کے لیے اسد اویسی نے اسی ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد کیا تھا۔ اویسی کے حامی یہ کہہ سکتے ہیں کہ تو اس میں اویسی کا کیا قصور۔ انہیں تھوڑی پتہ تھا کہ ہمایوں نے بھاجپا سے اتنا بڑا سودا کر رکھا ہے۔ میں کہتا ہوں: آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ اسد کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی (اویسی ہی کیا، آج سے پہلے تک ہم‌ میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم تھی). لیکن آپ تو اویسی کو اپنا سیاسی مرشد تسلیم کرتے ہیں نا اور ان کی ‘سیاسی دور بینی’ کے غیر مشروط مداح بھی ہیں۔ تو ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کرنے سے قبل، آپ کے سیاسی گرو یہ بات کیوں نہیں سمجھ سکے کہ جو شخص بھاجپا کے ٹکٹ پر ماضی میں الیکشن لڑ چکا ہو اور جس نے مرشد آباد میں بابری مسجد کی تعمیر کے نام پر تحریک چھیڑ کر مسلمانان بنگال کو آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہو، وہ مسلمانوں کا خیر خواہ کیوں کر ہو سکتا ہے؟؟؟

سچائی یہ ہے کہ اسد اویسی اس بات کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے ہمایوں کبیر سے اتحاد کیا کیوں کہ دونوں ایک ہی منزل کے مسافر تھے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمایوں کی طرح اویسی نے بھی بی جے پی سے سودا کیا ہے۔ اور بلا ثبوت کسی پر الزام تراشی ایک مومن کو زیب بھی نہیں دیتی۔ تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے، لیکن مقصد آخر الذکر کا بھی وہی ہے جو اول الذکر کا ہے: ممتا بنرجی کو کرسی سے دور رکھنا۔ اور یہ بتانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں کہ ممتا وزارت اعلی کی کرسی سے ہٹیں گی تو اس پر بیٹھے گا کون۔

مسلمانو، اب بھی وقت ہے۔‌ براہ کرم، بیدار ہو جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی آنکھ تب کھلے جب تاریکی مکمل طور پر چھا چکی ہو اور آپ چراغ لے کر بھارت کی گلیوں میں کسی ایک سیاسی پارٹی کو ڈھونڈنے نکلیں جو آپ کے حق کی بات کرتی ہو اور آپ پر ظلم کے خلاف لب کشائی کرتی ہو۔ مگر تب تک آپ نے ایک پارٹی کے عشق میں ساری “سیکولر” پارٹیوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہو اور بھارت کا حال مکمل طور پر اسرائیل جیسا ہو چکا ہو۔ یقین جانیے، اس وقت کف افسوس ملنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں