طلوعِ اسلام: بشارتوں کاحسین شعری کشکول
محمد فیصل خان
ریسرچ اسکالر :شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی ،دہلی
اقبال کے تخلیقی معراج کی شناخت افکار کو شعری سانچے میں ڈھالنے اور فلسفے کو جذبے سے ہم آہنگ کرنے کے حسنِ امتزاج میں پوشیدہ ہے۔شاعری میں وسعت اور گہرائی حکمت وبصیرت کے سبب نموپذیر ہوتی ہے اور یہی حکمت وبصیرت اقبال کے فکروشعر میں ربط وتسلسل کے ساتھ ایک مضبوط کڑی کی شکل میں جابجا جلوہ گر ہے ۔
اقبال کی نظم ’ طلوعِ اسلام‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو بانگ درا کی آخری طویل نظم ہے ۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعدیورپین ترکوں کو تہہ وبالا کرنے پر آمادہ تھے لیکن مصطفی کمال پاشا کی علل عزمی اور آہنی ارادے نے نہ صرف ان کے تسلط واقتدار کے خواب کو چکنا چور کیا بلکہ انھیں گھٹنے ٹیکنے پر بھی مجبور کردیا۔ اسی فتح ونصرت نے اقوام ایشیابلکہ یہ کہیںکہ پورے عالم اسلام کے مردہ دلوں میں زندگی کی نئی روح پیدا کردی اور اقبال کے لیے ’طلوع اسلام‘ کی تخلیق کا محرک ثابت ہوئی ۔
طلوع اسلام کی تخلیق کے سرچشموں میں کسی حدتک انقلاب ِروس کی بشارتوں کوبھی دخل ہے۔دنیا میں ایک نئے نظام کی ابتدانے کرۂ ارض کے زمین و آسمان کوبدلنے کابلندبانگ نظریہ پیش کیاجس کی بنیادوں میں اسلامی افکارکاخمیر بھی شامل ہے۔اقبال اس محرک جذبے سے بخوبی واقف تھے چنانچے خضرراہ میں اسلام اوراس کے پیروکاروں کے بارے میں نظم کا ایک حصہ وقف کیا ہے جوطلوع اسلام کے تسلسل کی ایک ابتدائی کڑی کہی جاسکتی ہے۔راقم کاذاتی خیال یہ ہے کہ طلوع اسلام کے مطالعے کے لیے اس سے قبل تخلیق کی گئی نظم خضرراہ کامطالعہ ضروری ہے۔
نظم طلوعِ اسلام مثمن ترکیب بند کی ہیئت میں ہے اور نو(۹) بندوں پر مشتمل ہے جو بحر ہزج مثمن سالم میں لکھی گئی ہے ۔نظم کے پہلے بند کی ابتدا فطرت کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔عرصۂ دراز سے مسلمانوں پر افسردگی اور مایوسی کی جو فضا قائم تھی وہ اب ختم ہوتی نظر آنے لگتی ہے جو بدلے ہوئے حالات کے عین مطابق ہے۔ یہ منظر کشی ان حالات کے تبدیل ہونے کی ہے جنھوں نے مسلمانوں سے جینے کی امیدیں تک چھین لی تھیں، لیکن اچانک آئی اس ہنگامہ خیز ی نے ان کے زیست نامے کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا اور مردہ دلوں میں خونِ زندگی جوش مارنے لگا۔
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا ، گیا دورِ گراں خوابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
اسی بند میں آگے چل کر اقبال ملت کو کامیابی کے اعلیٰ مدارج کی بشارت دیتے ہیں اوران میں نئے مقاصد کی جستجو کا شیدائی بننے اور کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جہدوعمل کے سفر پر رواں دواں رہنے کا حوصلہ اور عزم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
دوسرے بند کے ہر ایک اشعار میں ارتقائی مراحل کے جو کچھ امکانات ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں ان تمام کو ملتِ اسلامیہ کی ترقی ، نشو ونما اور حالات کی تغیّر پذیری کے نقوش کی شکل میں پیش کیا گیا ہے ۔ ابتدائی دو اشعار میں دو تلمیحات کا استعمال ہوا ہے ۔ پہلی ’’خلیل اللہ ‘‘ اس سے یہاں ملتِ اسلامیہ مراد ہے۔ دوسری ’’ شاخِ ہاشمی‘‘ یہاں اس سے ’’مسلمانوں کا گروہ‘‘ مرادہے ۔اس موقع پر اقبال مسلمانوں کے خوشگوار مستقبل کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کی ندامت کے آنسوؤں کا ایک ایک قطرہ گوہرِ آبدار کی شکل میں ظاہر ہوگا اور شاخِ ہاشمی (امتِ مسلمہ) کی دلیری اسے نیا رُخ عطا کرے گی ۔
اسی بند کے چوتھے شعر سے نظم کے نقطۂ خاص کی طرف پھر سے توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ترکوں پر ایک وقت ایسا بھی گزرا جب انھیں حکومت ،قیادت اور بالادستی ہر ایک سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن پھر مصطفی کمال کی سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعے ایسی فتح ملی کہ پورے عالم اسلام کا نقشہ ہی بدل گیا اور ہر دلعزیز ی ان کا مقدر ٹھہری۔
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
اس کے بعد ہم شاہین کے استعارے سے متعارف ہوتے ہیں جو آگے چل کر کلامِ اقبال کی خاص پہچان قرار پایا۔ اب اقبال بلبل کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے ملت کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہیں کہ اے مسلمانوں مغرب کے مطالبات کا سامنا کرنے کے لیے شاہین کے جگر کی سی دلیری اور قوت پیدا کرو کیوں کہ کامیاب زندگی کا رازاسی میں پنہاں ہے ۔
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
یہ دل چسپ بات ہے کہ عمرکے آخری حصے میں اقبال نے مسلم نوجوانوں کے لیے یہی دعامانگی ہے۔درج ذیل فارسی اشعاراسی دعاکاترجمان ہے :
بہ جلال تو کہ در دل دگر آرزو ندارم
بجز ایں دعا کہ بخشی بہ کبوتراں عقابے
تیسرے بند سے نظم اپنے بنیادی خیال کی منتہا پر نظر آتی ہے جہاں مسلمانوں کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ اپنے مقام ومرتبے کو پہچانواور کمربستہ ہوجاؤ عنقریب دنیا کی امامت کا کام تمھیں سے لیا جائے گا۔ اقبال نے اس بند کے ہر ایک شعر میں نہایت بلند مضامین باندھے ہیں،خوبصورت اندازِ بیاں اختیار کیا ہے اور کہیں کہیں مشکل بندشوں کے ذریعے انتہائی بلیغ بات کہہ دی ہے:
خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں ، وہ کارواں تو ہے
تیسرے بند میں جس رہبری کی ذمے داری مسلمانوں کو دی گئی تھی اس کی بقا کے اصول اسلامی تعلیمات سے منسلک کرکے چوتھے بند میں پیش کیے گئے ہیں مثلاً ہر سُوالفت ومحبت عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اخوّت پسندی اور بھائی چارہ ہو ، ساتھ ہی ذات پات اور رنگ ونسل سے ہٹ کر دینِ اسلام کی بنیاد پر اتحاد ہوتاکہ امن وامان کی فضا قائم ہوسکے ۔ یہ اقبال کی ذہانت ،تخیل کی بلندپروازی اور کمالِ فن کا زبردست نمونہ ہے کہ انھوں نے بڑے ہی بلیغ انداز میں اسلام کی قدیم تاریخ کو اس وقت کی ہم عصر تاریخ (ترکوں کی فتح) سے ہم آہنگ کرکے بیان کردیا۔ خدا اور رسولﷺ پر غیر متزلزل یقین ہی کے نتیجے میں زورِ حیدری،فقربوذری اور صدقِ سلیمانی کے آگے ایران اور روم جیسی مطلق العنان شہنشاہی بھی سربہ سجود ہوگئی ۔اقوام ایشیا کو بھی چاہیے کہ اسے نظیر بناکر وہ بھی اپنی غلامی کی زنجیروں کو اتار پھینکیں۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا ؟ زورِ حیدر ، فقرِ بوذر ، صدقِ سلیمانی
پانچویں بند میں فلسفہ وحکمت اور مذہب دونوں کو بنیاد بناکر دنیاوی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے ذریعے بہتر زندگی کے اصول مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔یہاں بطور خاص آزادی اور اقتدار کے حصول کی جدوجہد پر مسلمانوں کو ابھارا جارہا ہے جس کے لیے قوم کو اپنے اندر ایمانی قوت اور ذوقِ یقیں کے ثمرات کا پیدا کرنا شرطِ اولیں ہے ۔ جس یقینِ محکم کی ابتدا چوتھے بند سے ہوئی تھی اس کاتکملہ تفصیلی انداز میں پانچویں بند کا وصفِ خاص ہے ۔بند کے پہلے شعر میں’’ذوقِ یقیں‘‘ سے مراد ’’ایمانی پختگی ہے ۔ خدا، رسول اور مبادیاتِ اسلام پر یقینِ کامل ہی غلامی سے نکلنے کا بنیادی جز ہے۔سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۳۹ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا ترجمہ ہے ’’تم ہی سربلند رہوگے اگر صاحب ایمان ہو ‘‘
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا ؟
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
چوتھے اور پانچویں بند میں خدائے واحد پر جس یقینِ محکم کا بیان ہوتا چلا آرہا تھا اور اسے ہی کامیابی کی کنجی قرار دیا گیا تھا ۔چٹھے بند میں اسی کامیابی کی طرف اشارہ ہے اور اختتام بھی یقینِ کامل کو مزید مضبوط کرنے پر ہوتا ہے ۔ غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس سے پہلے کے اشعار میں یہی باتیں اشاراتی انداز میں کہی گئی ہیں جہاں ابہام زیادہ ہے جب کہ موجودہ بند میں انھیں باتوں کو بڑے ہی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے جو غیر مبہم ہے ۔
ساتویں بند میں نظم کا خیال پھر عمومی ہوجاتا ہے ۔تیسرے اور چوتھے بند میں باندھے گئے مضامین کچھ نئی تراکیب اور بندشوں کے سہارے ایک بارپھر یہاں بیان ہوئے ہیں۔ بند کے پانچویں شعر میں فلسفۂ خودی کا ایک بار پھر سے ذکر کیا گیا ہے ۔یہاں خودی سے اقبال کی مراد معرفتِ زندگی اور اسرارِ حیات ہے ۔ یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی دنیا خود اپنے زور بازو کی بدولت بنانے کا حوصلہ پیدا کریں جس میں اپنی ذات کا شعور ،احساسِ ذمے داری اور جرأت وخودداری سبھی شامل ہیں۔ یہی وہ شے ہے جو مسلمانوں کے کارناموں کو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہوکر حیات جاودانی بخش دے گی ۔
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
ایک طرف اقبال میدان جنگ میں فولادی طاقت وقوت کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب کہ دوسری طرف پتھروں کو موم بنانے والا نرم لہجہ اور الفت ومحبت سے بھرپور دل بھی ان کے سینے میں دھڑکتا ہے ۔ شاید ان کا یہ عقیدہ تھا کہ باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور حق کے آگے جھک جانے میں کوئی عار نہیں ۔خیال رہے کہ اقبال نے یہ مضمون سورہ فتح کی آیت نمبر ۲۹ سے اخذکیا ہے جس میں صحابہ کی صفات کا بیان اس طرح ہواہے کہ’’وہ کافروں پربہت سخت اورآپس میں انتہائی نرم دل ہیں‘‘۔
مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیلِ تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
آٹھواں بند مغربی تہذیب وتمدن کے نقائص اور ان کی خامیوں کے بیان سے عبارت ہے جس کے لیے ملوکیت کے نظام اور جاگیردارانہ اصول وضوابط پر طنز کے تیر چلائے گئے ہیں۔ پہلے ہی شعر سے یورپ کے نظامِ ملکوکیت کے کھوکھلے پن کو اس طرح ابھارا گیا ہے کہ انسان ہی انسان کا دشمن بن بیٹھا ہے اور ایک انسان دوسرے انسان کو غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کررہا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں مغربی تہذیب کی دلکشی صرف اور صرف نظروں کا دھوکہ ہے ،دور سے نظرآنے والی چمک دمک دراصل مغربی کلچر کے محاسن نہیں معائب ہیں جو تمام نوعِ انساں کے لیے خطرہ ہیں۔
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
نظم کے آخری بند میں قوم سے خطاب مکمل طور پر فارسی زبان میں ہے جو قابل غور ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اس بند کا پہلا اور آخری شعر حافظ شیرازی کا ہے ۔واضح رہے کہ بند کے خطیبانہ لہجے میں سختی کا احساس نمایاں ہے یعنی ابتزازکی کیفیت اور حیات افروز فضا اپنار نگ بکھیرنے میں پوری طرح کامیاب ہے ۔بند کے ابتدا ئی چار اشعار میںکائنات کی تصویر کشی کو انقلابی آمد کے خوشگوار لمحوں سے جوڑ کر جوش وخروش کے ساتھ خوشی اور مسرت بھرے انداز میں پیش کیا گیا ہے :
کشیدا ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمد
پانچویں شعر سے ترکوں کی فتح کے ذریعے تیار ہوئے تخلیقی تصورات کو ایک صحیح رُخ عطاکرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہاں قرونِ اولیٰ کی اسلامی تاریخ کو سامنے رکھ کر ’’خواجۂ بدر وحنین ‘‘ کی تلمیح سے مسلمانوں کو ان کے خوبصورت ماضی کی یاد بڑے سبک اور لطیف انداز میں دلائی گئی ہے ۔چھٹے شعر میں ’’شاخِ خلیل‘‘ کے ذریعے پھر سے ملتِ ابراہیمی کی پیروی پر زور دیا گیا ہے ۔ تاہم اقبال کے نزدیک صرف اسلام ہی کی اطاعت میں انسانوں کے مسائل کا حل تلاش کرنے اور انھیں کامرانی کی منزل تک لے جانے کی قابلیت موجود ہے ۔
اس نظم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بہت سے اشعار آج ضرب المثل کی صورت اختیارکرگئے ہیں ۔ایسے اشعار ہمارے ثقافتی ثمرے کا خاص حصہ ہوتے ہیں جو سادہ اور سلیس بات کو فنکارانہ انداز میں پیش کرکے سماج کو متاثر کرتے ہیں ۔ جنھیں انسانی تجربات ،حکمت اور سماجی قدروں کی روح بھی کہہ سکتے ہیں،یہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیںاور ان کی تاثیر وتحسین وسیع تر ہوتی جاتی ہے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
(دوسرابند )
سبق پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
(تیسرا بند )
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں ، نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
(پانچواں بند )
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے ،اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
(چھٹابند )
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
(ساتواں بند)
جذبے سے بھر پور ان بے مثال اشعار میںبہت سے نصیحت آمیز پیغامات سبک، لطیف اور رواں دواں اسلوب میں موجود ہیں ۔مثلاً :کامیابی اور ترقی (دیدہ وری) کے لیے جہد مسلسل اورتگ ودو کی لازمیت ، مسندِ صدارت کے لیے صداقت ،عدالت اور شجاعت کی موجودگی ،غلامی سے نجات کے لیے ذوقِ یقیں کی شرط اور بلند ترین مقام کی حصول یابی کے لیے عملی نمونے کی پیش کش کو لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے ۔اقبال کہتے ہیں ان ہی صفات کے ساتھ جب اہل ایمان زندگی بسر کرتے ہیں تو ان کی موجودگی چمک دار سورج کی مانند ہوجاتی ہے کہ وہ جس طرف کو رُخ کریں ایمان اور حق کی روشنی سے ہر ایک شے کو منور کرجاتے ہیں۔
نظم ’’طلوع ِ اسلام ‘‘ اقبال کے خطابیہ اندازِ بیان کا مثالی نمونہ ہے ۔ اس میں رمز وایما کے بجائے براہِ راست خطابت غالب ہے ۔ پوری نظم متنوع لہجہ رکھتی ہے ،نرمی اور گھلاوٹ سے نظم کی ابتدا تو ہوتی ہے مگر جلد ہی لہجے کی گرماہٹ ،جوش اور ولولہ انگیزی دکھائی دینے لگتی ہے ۔جہدوعمل پر ابھارنے کے لیے مشفقانہ تو کبھی واعظانہ رنگ اختیار کیا گیا ہے اور کہیں کہیں دردمندی اور دھیماپن بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ نظم کا مطالعہ شگفتگی ،غنائیت اور نغمگی کا بھرپور احساس دلاتا ہے ، اس میں بلاغت اور جامعیت کی شاہ کار مثالیں موجود ہیں۔نادر ونایاب ترکیبیں، نئی نئی تشبیہات واستعارات اور مختلف صنائع وبدائع کا استعمال نظم کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ محاکات اور شاعرانہ تصویر کشی کی خوبصورت دنیا بھی یہاں آباد نظرآتی ہے ۔ فنی اعتبار سے نظم کے کچھ حصے سہل ممتنع کا درجہ رکھتے ہیں جب کہ کچھ حصے انتہائی بلیغ اور معانی ومفاہیم کے حساب سے گہری فکرونظرکے حامل ہیں۔
طلوعِ اسلام کا خمیر یقینِ محکم ،عمل پیہم اور پیارومحبت کی بنیاد پر تیار ہوا ہے ۔ حالاں کہ جس تاریخی معرکے اور نظریاتی پہلو پر اس کی نظم کی ابتدا کی گئی تھی (یعنی ترکوں کی فتح اور احیائے اسلام ) یہ اس سے باہر آکر عالمی پیمانے پر مسلمانوں کے دیگر مسائل کا حل بھی تلاش کرتی ہے ۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں ارتکاز (یعنی کسی مخصوص نکتے یا سمت کی طرف جھکاؤ) کی کمی ہے بلکہ یہاں ایک سے زائد مرتبہ ناصحانہ پیغامات کی وضاحت اور جذبے کی شدت کے ساتھ ساتھ افکار کی بلندی کے سبب ایسا ہواہے ۔
الغرض طلوعِ اسلام اقبال کی دوسری طویل نظموں سے قدرمختلف اورامتیازات کی حامل ہے۔یہ عصری واقعات کی سرنوشت ہے اوربین الاقوامی معاملات یامسائل کے بھر پوراورشفاف شعری اظہارسے معمورہے۔یہ شکوہ وجوابِ شکوہ یاخضرراہ سے مختلف اورفکری محسوسات سے بھرپورہے۔مسلم قوم کی غیرت وحمیت کے اتنے انقلاب آفریں پیغام دوسری نظموںمیںاس شدومدسے قلم بندنہیں ہوئے ہیں۔نہ ہی اسلامی تاریخ کایہ عکس موجودہے۔آہنگ وارتکازکابھی اس میں بے پایاں تندوتاب کارہے۔راقم کے خیال میں یہ نظم ماضی وحال کی بشارتوں اورحادثات کاحسین شعری کشکول ہے۔
MO FAISAL KHAN
Research Scholar Department of Urdu
Delhi University, Delhi
Mob:- 9918998144
Email:- fk.nadwa123@gmail.com
Address:- A-46, Christian Colony, Patel Chest,
post Malka Gamj, New Delhi.110007





