ٹرمپ کی امریکہ کینیڈا پل افتتاح روکنے کی دھمکی
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو مکمل معاوضہ ملنے تک امریکہ کینیڈا گورڈی ہوو پل کا افتتاح نہیں ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کو ملانے والے اہم بین الاقوامی پل کے افتتاح کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ جب تک امریکہ کو کینیڈا کی جانب سے کیے گئے تمام مالی اور دیگر معاملات میں مکمل اور منصفانہ معاوضہ نہیں مل جاتا، اس پل کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اونٹاریو (کینیڈا) اور مشی گن (امریکہ) کو آپس میں ملانے والا گورڈی ہوو انٹرنیشنل برج اس وقت تک فعال نہیں ہوگا جب تک امریکہ کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی نہیں بنایا جاتا۔ ان کے بقول امریکہ کو کینیڈا کے ساتھ معاملات میں برابری اور مکمل ادائیگی ملنی چاہیے۔
دوسری جانب منصوبے کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس پل کی تعمیر کے اخراجات کینیڈا نے برداشت کیے ہیں۔ تاہم اس کا مشترکہ انتظام اور ملکیت کینیڈا اور امریکی ریاست مشی گن دونوں کے پاس ہوگی۔ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم منصوبہ سمجھا جا رہا ہے۔مشی گن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر ایلیسا سلوٹکن نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس منصوبے کو روکا گیا تو اس کے ریاست کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پل تجارت، روزگار اور سرحدی تعاون کے لیے نہایت اہم ہے، اور اسے سیاسی تنازع کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کس قانونی اختیار کے تحت اس پل کے افتتاح کو روک سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بین الاقوامی منصوبوں میں مختلف حکومتی اور قانونی مراحل شامل ہوتے ہیں۔گورڈی ہوو انٹرنیشنل برج کی تعمیر کا آغاز 2018 میں ہوا تھا، جب کہ آزمائشی مراحل مکمل ہونے کے بعد اسے رواں سال کے اوائل میں کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی ایک بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔





