خبرنامہ

ٹرمپ کی ٹیم روس۔یوکرین جنگ کے لیے امن منصوبہ تیار

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیم روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نئے امن منصوبے پر خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔ میڈیا ادارے اکسیوس نے نامعلوم امریکی اور روسی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ یہ منصوبہ تقریباً 28 نکات پر مشتمل ہے اور اسے ٹرمپ کے گزشتہ ماہ پیش کردہ 20 نکاتی غزہ جنگ بندی منصوبے سے متاثر بتایا جا رہا ہے، جس پر اسرائیل اور حماس نے حال ہی میں اتفاق کیا تھا۔ذرائع کے مطابق اس تجویز کے چار اہم ستون ہیں: یوکرین میں فوری امن قائم کرنا، سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنا، یورپی خطے میں وسیع تر سکیورٹی کا قیام، اور روس و یوکرین دونوں کے ساتھ مستقبل میں امریکہ کے تعلقات کی شکل۔ تاہم منصوبے میں مرکزی تنازعات، بشمول مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول کا معاملہ، ابھی تک تفصیل سے واضح نہیں کیے گئے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے روسی ایلچی کرل دمتریف کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اکتوبر کے آخر میں میامی میں ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ تین روزہ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ اگر تھوڑی لچک دکھائی جائے تو اس جنگ کو جلد ختم کرنے کا ایک حقیقی موقع موجود ہے۔مزید براں امریکی اہلکاروں نے یورپی شراکت داروں کو بھی اس تجویز سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں مذاکرات کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بروقت معلومات مل سکیں۔ پولیٹیکو کے مطابق، امریکی فوج کے دو سینئر عہدیداروں نے جنگ کے دوران یوکرین کا غیراعلانیہ دورہ کیا ہے تاکہ روس کے ساتھ تعطل کا شکار امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مقامی لیڈروں سے بات چیت کی جا سکے۔ ان اہلکاروں میں سیکرٹری آف دی آرمی ڈین ڈرسکول اور آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج شامل ہیں، جو صدر ولادمیر زیلنسکی، سینئر کمانڈروں اور قانون سازوں سے ملاقات کریں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ بعد میں ڈرسکول روسی اہلکاروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس دورے کے دوران امریکی اہلکار یوکرین کی جنگی ضروریات اور وسیع حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے، جس میں ماسکو کے ساتھ رکے ہوئے جنگ بندی عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔یہ اقدامات واضح طور پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سابق صدر ٹرمپ کی ٹیم روس یوکرین تنازع کو پرامن حل کی راہ پر لے جانے کی کوشش میں سنجیدہ ہے، اور یورپی اور عالمی شراکت داروں کو بھی شامل کرنے کی کوشش جاری ہے تاکہ دیرپا امن قائم ہو سکے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر