خبرنامہ

بی بی سی کے خلاف ٹرمپ کا ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے پروگرام “پینوراما” میں ان کی چھ جنوری 2021 کی تقریر کو جس انداز میں پیش کیا گیا، اس سے ناظرین کو گمراہ کیا گیا اور ان کے اصل الفاظ کو مسخ کر کے ایک منفی تاثر پیدا کیا گیا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ بی بی سی نے دانستہ طور پر ان کی تقریر کو اس طرح ایڈٹ کیا کہ گویا وہ اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسا رہے تھے، حالانکہ ان کی تقریر پُرامن اور قانون کے احترام پر مبنی تھی۔ ان کے مطابق، “میری تقریر بہت خوبصورت اور پرسکون تھی، مگر انہوں نے اسے ایک انتہا پسندانہ بیانیہ بنا دیا۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے پر قانونی قدم اٹھائیں، کیونکہ “آپ لوگوں کو اس طرح کی حرکتوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔” ان کے وکلاء نے بی بی سی کو باضابطہ طور پر ایک نوٹس بھیجا ہے جس میں ادارے کو 14 نومبر تک کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ ڈاکیومنٹری سے مکمل اور شفاف لاتعلقی کا اظہار کرے، اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگے، اور مناسب ازالہ کرے۔ بصورتِ دیگر ٹرمپ ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے تیار ہیں۔بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ادارے کی جانب سے “غلطیِ فہم” یا “غلط فیصلہ” ہوا ہے، جس سے صدر ٹرمپ کی تقریر کے بارے میں ناظرین کو غلط تاثر ملا۔ انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کی جانب سے کسی منظم تعصب یا جانبداری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایڈیٹوریل فیصلہ تھا جس میں احتیاط کی کمی رہی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی اپنی غیر جانب داری کے اصولوں پر بدستور قائم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی مقدمہ دائر کرتے ہیں تو یہ ایک اہم قانونی نظیر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ عام طور پر اس نوعیت کے ہتکِ عزت کے مقدمے عوامی شخصیات کے لیے جیتنا مشکل ہوتا ہے۔ امریکی قانون کے مطابق ایسے کیسز میں مدعی کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ میڈیا ادارے نے “جان بوجھ کر جھوٹ یا بدنیتی” کے ساتھ خبر پیش کی۔ دوسری جانب، برطانیہ کے میڈیا قوانین اس حوالے سے زیادہ سخت ہیں، جس سے معاملہ دونوں ممالک کے قانونی نظاموں کے درمیان دلچسپ موازنہ بن گیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب بی بی سی پہلے ہی مختلف تنازعات میں گھری ہوئی ہے اور اس پر ایڈیٹوریل شفافیت کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر کے دو مختلف حصوں کو ملا کر ایک ایسا تاثر پیدا کیا گیا جیسے وہ اپنے حامیوں کو براہِ راست کیپیٹل ہل پر حملے کے لیے اکسا رہے ہوں، جب کہ حقیقت میں ان حصوں کے درمیان ایک گھنٹے کا وقفہ تھا۔ اس اختلاف نے خبر کی غیر جانبداری پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔فی الحال یہ واضح نہیں کہ بی بی سی ٹرمپ کے مطالبات پر کیا ردعمل دے گی اور آیا یہ معاملہ واقعی عدالت تک پہنچے گا یا نہیں، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس تنازع نے میڈیا کے کردار، ایڈیٹنگ کے اخلاقی معیار اور خبر کی سچائی پر ایک نئی عالمی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف ٹرمپ کی سیاسی ساکھ بلکہ میڈیا کی غیر جانب داری کے عالمی معیار کے لیے بھی ایک امتحان بن گیا ہے۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر