ٹرمپ کی اپیل ناکام: عالمی رہنما جنگ سے دور
آبنائے ہرمز معاملے میں امریکی صدر ٹرمپ کی فوجی اپیل مسترد،چین جاپانا فرانس سمیت کئی ممالک جنگ سے گریزاں، سفارتی حل کی کوششیں جاری۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر فوجی تعاون کی اپیل کو اب تک خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ مختلف ممالک کی جانب سے محتاط یا منفی ردعمل سامنے آنے کے بعد یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس معاملے میں امریکہ کو بین الاقوامی سطح پر مطلوبہ حمایت نہیں مل رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانس نے فی الحال اس ممکنہ فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جنگی اقدامات کے بجائے سفارتی راستے اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسی طرح آسٹریلیانے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہ راست فوجی کردار ادا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔دوسری جانب جاپان نے بھی اپنی فوج کو آبنائے ہرمز بھیجنے سے گریز کیا ہے۔ جاپانی حکومت کا موقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارتی کوششیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی دوران برطانیہ کا رویہ بھی محتاط دکھائی دے رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے اگرچہ صورتحال پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس اپیل کے حوالے سے کوئی واضح اور فوری فوجی وعدہ سامنے نہیں آیا۔
اسی طرح جنوبی کوریا بھی تاحال اس معاملے پر غور و فکر کر رہا ہے اور حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب چین نے صاف طور پر اس ممکنہ جنگی اقدام کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششیں ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔کئی ممالک اس وقت ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ نیٹو نے بھی اس ممکنہ فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے خود کو دور رکھا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان حالات میں صدر ٹرمپ کی اپیل کو عالمی سطح پر وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے G7 کے رکن ممالک سمیت اپنے قریبی اتحادیوں سے اس معاملے میں تعاون کی اپیل کی تھی۔ تاہم متعدد ممالک کی محتاط پالیسی اور جنگ سے گریز کے مؤقف کے باعث اس وقت امریکہ اس معاملے میں کسی حد تک تنہا دکھائی دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں تو ممکن ہے کہ خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ تاہم موجودہ صورتحال نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا فوجی دباؤ کے بجائے سفارت کاری ہی اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتی ہے۔





