ٹرمپ ایران مذاکرات: پیش رفت کم، کشیدگی برقرار، حل غیر یقینی
ٹرمپ ایران مذاکرات کا دعویٰ، اعتماد کی کمی، ابتدائی رابطے، علاقائی ثالثی جاری، ممکنہ ملاقاتیں، مگر صورت حال تاحال غیر یقینی اور پیچیدہ برقرار.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ان کی بات چیت نہایت مضبوط اور مثبت رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک محتاط اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے صرف ابتدائی اور کمزور اشارے ہی سامنے آئے ہیں۔ایران اب بھی امریکہ پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ سابقہ واقعات ہیں جن میں فروری اور جون 2025 میں ہونے والے مذاکراتی دور اچانک ختم ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تعطل امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی کارروائیوں کے باعث پیدا ہوا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید نقصان پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان حال ہی میں ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔ تاہم اس رابطے کو ابتدائی نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے اور ابھی اسے کسی بڑی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔دوسری جانب کئی علاقائی ممالک اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ممالک ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں اور ان کے رہنماؤں کے ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی خاصے مضبوط بتائے جاتے ہیں۔ یہ ممالک مسلسل عرب قیادت سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی ممکنہ حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اس کے علاوہ عمان، جو ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان قابلِ اعتماد ثالث رہا ہے، اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
صورتحال اگرچہ غیر یقینی ہے، لیکن کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران کے ایک اہم رہنما محمد باقر قالیباف جلد ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔ٹرمپ کی حکمتِ عملی بظاہر یہ ہے کہ وہ ایران میں کسی ایسے بااثر اور عملی سوچ رکھنے والے رہنما کی تلاش میں ہیں جس کے ساتھ وہ مؤثر انداز میں معاملات طے کر سکیں۔ تاہم ایران کا سیاسی ڈھانچہ اس حوالے سے پیچیدہ ہے، جہاں فیصلے صرف ایک فرد نہیں بلکہ مذہبی قیادت اور عسکری کمانڈرز کے اشتراک سے کیے جاتے ہیں۔ موجودہ حالات میں قالیباف جیسے رہنما زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور وہ کسی بھی معاہدے کے لیے بھاری قیمت طلب کر رہے ہیں، جس سے مذاکرات کا عمل مزید مشکل ہو سکتا ہے۔





