خبرنامہ

ٹرمپ کا پھر سے بھارت پاک جنگ روکنے کا دعویٰ،جےرام کی شدید تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کو انہوں نے ہی روکا تھا۔ ٹرمپ کے اس دعوے پر بھارتی کانگریس کے سینئر رہنما جےرام رمیش نے پھر سے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جےرام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ گزشتہ کچھ دنوں میں صدر ٹرمپ نے بار بار یہ دعویٰ دہرایا ہے کہ 10 مئی 2025 کو شروع ہونے والے بھارت۔پاکستان کے آپریشن ’سندور‘ کو انہوں نے اچانک اور غیر متوقع طور پر روکا۔ رمیش کے مطابق یہ دعویٰ اب تک 70 بار سامنے آ چکا ہے، جو کہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس پریس کانفرنسز اور سوال و جواب کے دوران دہرانے کا ریکارڈ ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی تقریروں میں کہا کہ گزشتہ 10 مہینوں کے دوران انہوں نے آٹھ مختلف جنگیں روکیں۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم پر زور دیااور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ زمینی تصادم سے آگے بڑھ کر ممکنہ طور پر ایٹمی جنگ کی طرف جا رہے تھے۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور صدر سے ملاقات کے دوران یہ اقرار کیا کہ ٹرمپ نے ایک کروڑ یا اس سے زیادہ انسانی جانیں بچائی ہیں۔ صدر کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان اس کشیدگی کے دوران 8 طیارے مار گرائے گئے تھے، اور ان کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام عالمی امن کے لیے نہایت اہم تھا۔
کانگریس رہنما جےرام رمیش نے صدر کے دعووں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت اور ان کے قریبی تعلقات رکھنے والے رہنما صدر ٹرمپ کے الزامات اور دعووں کو بغیر کسی شواہد کے قبول کر لیتے ہیں۔ رمیش کے مطابق یہ دعوے زیادہ تر سیاسی تشہیر کے لیے کیے جا رہے ہیں اور اس سے حقیقت اور عوامی فہم پر سوال اٹھتا ہے۔بھارتی اور پاکستانی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال 22 اپریل 2024 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عسکری کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ مئی میں دونوں ممالک کی فوجوں نے سرحد پر چوکسی بڑھائی اور ممکنہ تصادم کے خطرات پیدا ہو گئے۔ ٹرمپ کے مطابق، اس دوران ان کی مداخلت اور ثالثی نے کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے دعوے کا صحیح یا غلط ہونا اب بھی مباحثے کا موضوع ہے۔ ٹرمپ کے مؤقف کے مطابق ان کی ثالثی نے عالمی سطح پر انسانی جانوں کی بچت کی، لیکن بھارتی اور پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی اصل وجوہات خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال، دہشت گردی، اور سرحدی تنازعات ہیں، اور کسی ایک فرد یا ملک کے اقدام سے پوری صورتحال کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔ٹرمپ کی جانب سے بار بار دہرانا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں روکی ہیں اور بھارت پاکستان تنازع میں مداخلت کی ہے، اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ وہ اپنے عالمی کردار کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ جےرام رمیش اور دیگر سیاسی حلقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے دعوے حقیقت پر مبنی ہونے کے بجائے سیاسی تشہیر کے زیادہ قریب ہیں،اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہر حکومت کی ذمےداری ہے۔صدر ٹرمپ کے اس دعوے نے نہ صرف بھارت اور پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بحث کو جنم دیا ہے اور کئی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ خطے کی امن و سلامتی کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششیں اہم ہیں، چاہے دعویٰ کسی بھی ملک یا رہنما کے نام سے ہو۔

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

خبرنامہ

لاس اینجلس میں جنگل کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی، اموات کی تعداد 24ہوئی، امدادی کوششیں جاری

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لا اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ مزید 8 جانیں نگل
خبرنامہ

چین کبھی بھی امریکہ کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا

واشنگٹن(ایجنسیاں) صدر بائیڈن نے پیر کو خارجہ پالیسی پر اپنی آخری تقریر میں بڑا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر