کاس گنج میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی دردناک موت
کاس گنج میں ایک خاندان کے پانچ افراد مردہ، ابتدائی طور پر قتل اور خودکشی، پولیس تحقیقات جاری، پوسٹ مارٹم کے نتائج کا انتظار۔
یوپی کے کاس گنج میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کے لاشیں ان کے گھر سے برآمد ہوئیں، جس نے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی ہیں اور واقعے کی گہرائی میں تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔واقعہ تھانہ اماپور کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ستیویر اور ان کے خاندان کے افراد گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ پولیس کے مطابق اطلاع ملنے کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے اور دروازے کا تالا توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ کمرے میں ستویر، ان کی اہلیہ اور تین بچوں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا کے لاشیں پڑی تھیں۔
کاس گنج کی پولیس سپرنٹنڈنٹ انکیتا شرما نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ستویر نے اپنے خاندان کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی ہے۔ تاہم پولیس تمام پہلوؤں پر تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے اور قانونی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی صحیح وجوہات سامنے آئیں گی۔یہ واقعہ خودکشی کی سنگین نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ ذہنی دباؤ، ذہنی صحت کے مسائل اور دیگر سماجی مسائل بعض اوقات افراد کو انتہا کی جانب لے جا سکتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، گھر میں تناؤ، مالی مشکلات یا جذباتی دباؤ ایسے حالات میں خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
اگر آپ یا آپ کے جاننے والے بھی ذہنی دباؤ یا شدید پریشانی سے گزر رہے ہیں تو فوری مدد لینا نہایت ضروری ہے۔ بھارت حکومت کی ’جیون آستھا‘ ہیلپ لائن نمبر 18002333330 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، جہاں تربیت یافتہ ماہرین فوری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے دوستوں، رشتہ داروں یا کسی بھروسے مند شخص سے بات کرنا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پولیس اور مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات پر بھروسہ نہ کریں۔ تمام تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی معاملے کی تفصیلات عوام کے سامنے آئیں گی۔ کاسگنج میں یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے سانحہ ہے بلکہ پورے علاقے کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ ذہنی دباؤ اور خاندانی تنازعات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ماہرین نفسیات کے مطابق، ایسے معاملات میں بروقت مدد اور مشاورت زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سانحے کے پیش نظر کمیونٹی سطح پر بھی نفسیاتی سپورٹ اور مدد فراہم کرنے کے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔یہ واقعہ ایک بار پھر خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح اور ذہنی صحت کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ معاشرتی سطح پر بیداری اور سہارا فراہم کرنے والے اقدامات ایسے خطرناک حالات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔





