سیاسی بصیرت

قانون کا طوق

ودود ساجد

ایڈیٹر روزنامہ انقلاب۔

الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل سری دھرن کی دو رکنی بنچ نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے توسط سے یوپی حکومت کے گلے میں قانون کا ایک ایسا طوق ڈال دیا ہے جسے آسانی کے ساتھ نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے ایک ایسا ہی طوق بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے گلے میں بھی ڈالا جاچکا ہے۔

سنبھل کے گائوں دھنیٹا سوتی پورہ کے گاٹا (خسرہ) نمبر 291 میں واقع ایک مسجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے ضلع انتظامیہ کے حکم پر الہ آباد ہائی کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جو کچھ کہا عام حالات میں وہ کہنا آسان نہیں ہوتا۔ سنبھل کے مذکورہ گائوں کا واقعہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اہم بریلی کے گائوں محمد گنج کا واقعہ تھا۔ ملک بھر میں اور خاص طور پر یوپی اور اتراکھنڈ میں جو سیاسی اور سماجی احوال ہیں ان کی روشنی میں جسٹس اتل سری دھرن کا فیصلہ ستم رسیدہ شہریوں کیلئے انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔

سنبھل کے گائوں دھنیٹا سوتی پورہ کی مذکورہ مسجد کے بارے میں انتظامیہ کہتا ہے کہ یہ مسجد نہیں ہے اور ریوینیو محکمہ میں اس پراپرٹی کا اندراج موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ کے نام پر ہے لیکن مسجد کے ذمہ دار مناظر خان کہتے ہیں کہ یہ جگہ ان کے دادا چھدا خان نے وقف کی تھی اور 1999 میں ہائی کورٹ سے اجازت لے کر اس مسجد کو تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا نقشہ اور دیگر قانونی دستاویزات موجود ہیں جو عدالت میں داخل کردی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے اس مسجد میں‘ محض 20 لوگوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔

کل میں نے مناظر خان سے فون پر بات کی تو معلوم ہوا کہ 20 لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے باوجود محض چھدا خان خاندان کے چار افراد کو ہی نماز پڑھنے دی جارہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کرکے کہا کہ رمضان میں جہاں نمازیوں کی تعداد معمول سے زیادہ ہوجاتی ہے‘ اب 20 لوگوں کو بھی نماز پڑھنے نہیں دی جارہی ہے۔ جسٹس اتل سری دھرن نے سنبھل کی ضلع انتظامیہ سے سوال کیا کہ مسجد یا مذکورہ پراپرٹی میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا کیا جواز ہے؟ اس پر ضلع انتظامیہ نے کہا کہ لاءاینڈ آرڈر (نظم و نسق) کے بگڑنے کے اندیشہ کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ ’ہم ضلع انتظامیہ کی اس دلیل کو یکسر مسترد کرتے ہیں ‘۔

جسٹس سری دھرن نے اس سے آگے جو کہا وہ ہر ایک نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی سے کہا کہ ’اگر لااینڈ آرڈر کے سبب آپ نمازیوں کی تعداد کو محدود کر رہے ہیں تو پھر یا تو اپنے عہدہ سے آپ استعفیٰ دے دیں یا پھر سنبھل سے باہر کہیں اور اپنا تبادلہ کرالیں۔‘ عدالت نے یہ حصہ اپنے فیصلہ میں لکھوایا بھی۔ جسٹس اتل سری دھرن نے کہا کہ ’یہ ریاست کا فرض منصبی ہے کہ وہ ہر صورت میں قانون و انتظام کی برقراری کو یقینی بنائے اور اگر مقامی حکام جیسے کلکٹر اور ایس ایس پی محسوس کریں کہ لااینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور محسوس کریں کہ وہ قانون و انتظام کو برقرار رکھنے کے اہل نہیں ہیں اور اس کیلئے وہ احاطہ کے اندر نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنا چاہتے ہیں تو پھر یا تو انہیں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے یا پھر سنبھل سے باہر اپنا تبادلہ کرالینا چاہئے۔

‘عدالت نے لکھا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ ہر طبقہ پرامن ماحول میں عبادت کے مقررہ مقام پر عبادت کرسکے۔ عدالت نے کہا کہ اگر عبادت کا یہ مقام ذاتی پراپرٹی ہے تب بھی اس سلسلہ میں عدالت اپنے پہلے فیصلہ میں یہ واضح کرچکی ہے کہ وہاں اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ عدالت یہ قضیہ پہلے ہی طے کرچکی ہے کہ اگر عبادت پبلک مقام پر ہو یا عبادت گزاروں کے کسی مقررہ مقام سے باہر پھیل جانے کا اندازہ ہو تو اسی صورت میں پولیس سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی۔ اس ضمن میں عدالت نے سماعت کی اگلی تاریخ 16 مارچ مقرر کی ہے۔

مناظر خان نے انقلاب کو بتایا کہ عدالت کے اس حکم کے باوجود مقامی تھانہ کے داروغہ امید سنگھ سولنکی نے ایس ڈی ایم کی موجودگی میں کہا کہ جب تک عدالت کا فیصلہ ہمارے پاس نہیں آجاتا ہم چار لوگوں سے زیادہ کو نماز پڑھنے نہیں دیں گے۔ حیرت ہے کہ عدالت کے اس فیصلہ کا علم ایس ایچ او کے علاوہ سب کو ہوگیا ہے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ 16 مارچ کو ریاستی حکومت اور سنبھل کے حکام عدالت کے سامنے کیا کہتے ہیں۔

گزشتہ 12 مارچ کو جسٹس اتل سری دھرن کی بنچ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ بریلی کے گائوں محمد گنج کے حسین خان کو 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کی جائے اور جہاں بھی وہ جائیں دو مسلح سیکیورٹی اہلکار ان کے ساتھ رہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں آگے جو لکھا وہ بھی عدالتوں میں بہت کم لکھا جاتا ہے۔ عدالت نے لکھا کہ حسین خان کے خلاف تشدد کا کوئی بھی واقعہ ہوا یا ان کی پراپرٹی کو کوئی نقصان پہنچا تو بادی النظر میں یہی سمجھا جائے گا کہ یہ ریاست کے اشارہ پر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ وہ پراپرٹی حسین خان کی ہی تھی جس پر طارق خان اور دیگر افراد نماز باجماعت ادا کر رہے تھے۔ حسین خان نے الزام لگایا کہ پولیس نے اسے اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی پاداش میں اس کے گھر سے اٹھایا اور اس کا چالان کردیا۔ پولیس نے اس کا گھر گرانے کی بھی دھمکی دی اور سادہ کاغذ پر اس کے دستخط بھی کرالئے۔

اس سے قبل اسی مقدمہ میں 11 مارچ کو توہین عدالت کے تعلق سے جسٹس اتل سری دھرن کی دو رکنی بنچ نے بریلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو حکم دیا کہ وہ 23 مارچ کو ذاتی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہوکر بتائیں کہ انہوں نے بریلی کے گائوں محمد گنج کےعرضی گزار طارق خان اور دیگر کو ایک ذاتی پراپرٹی پر نماز باجماعت ادا کرنے سے کیوں روکا اور کیوں انہیں پولیس نے ہراساں کیا۔ عدالت نے فیصلہ میں لکھوایا کہ اگر مذکورہ حکام 23 مارچ کو ذاتی طور پر حاضر نہ ہوئے تو ان کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کیا جائے گا۔

میں اس سلسلہ کے اپنے گزشتہ مضامین میں عرض کرچکا ہوں کہ جسٹس اتل سرھی دھرن کی بنچ میں عیسائیوں کی دو مختلف تنظیموں نے اسی طرح کا اپنا مقدمہ پیش کیا تھا جس میں حکومت نے حلف نامہ دے کرکہا تھا کہ دستور کی دفعہ 25 کے تحت ریاست بھر میں ذاتی پراپرٹی میں عبادت گزاری کیلئے کسی بھی فرقہ یا طبقہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ لہٰذا عدالت نے اس ضمن میں فیصلہ میں لکھا تھا کہ کسی کو بھی اپنی ذاتی پراپرٹی میں اجتماعی یا انفرادی عبادت گزاری کیلئے کسی سے کوئی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔

مذکورہ فیصلہ کی روشنی میں بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کے خلاف بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اسی فیصلہ کی رو سے بریلی کے حسین خان کو 24 گھنٹے دو مسلح سیکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس طرح بریلی کے گائوں محمد گنج کے طارق خان اور حسین خان نے غیر معمولی حالات میں عدالت میں جانے کی ہمت دکھائی اسی طرح سنبھل کے دور افتادہ گائوں دھنیٹا سوتی پورہ کے مناظر خان نے بھی پولیس اور گائوں کے شرپسندوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا حوصلہ دکھایا۔ ایسے میں جہاں عدالت میں ریاستی حکومت کی واضح یقین دہانی کے باوجود طارق خان اور حسین خان کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کیلئے پولیس نے ہراساں کیا اور جہاں ایک دور افتادہ گائوں میں اجازت دینے کے باوجود 20 لوگوں کو نماز پڑھنے نہیں دی گئی مذکورہ تینوں افراد کا انتظامیہ کے خلاف عدالت میں ڈٹے رہنا آسان نہیں تھا۔ عدالت کے مذکورہ بالاچاروں فیصلے مدعیان کے عزم و ہمت کا ہی نتیجہ ہیں۔

جسٹس اتل سری دھرن وہی جج ہیں جنہوں نے کرنل صوفیہ قریشی کو دہشت گردوں کی بہن بتانے والے مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلہ پر سپریم کورٹ نے روک لگادی تھی اور اس کے ساتھ ہی جسٹس اتل سری دھرن کا چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں تبادلہ کردیا گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ چھتیس گڑھ جاکر اپنے فرائض منصبی سنبھالتے مرکزی حکومت کی “درخواست” پر ان کا تبادلہ الہ آباد ہائی کورٹ کردیا گیا۔ اگر وہ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں رہتے تو دوسرے نمبر پر ہوتے اور چند ہی مہینوں میں وہاں چیف جسٹس بن جاتے۔ لیکن الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ کر وہ ساتویں نمبر پر آگئے اور اب ان کے چیف جسٹس بننے کے امکانات ختم ہوگئے۔ لیکن اس کے باوجود جسٹس اتل سری دھرن نے انصاف کی ڈگر نہیں چھوڑی۔ انصاف کے معاملہ میں انہیں بہت سخت جج تصور کیا جاتا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ کر بھی انہوں نے عدل و انصاف کی وہی روایت برقرار رکھی۔ ان کی عدالت میں فہیم خان سمیت چند مسلمانوں کے گھروں‘کاروباری اداروں اور دوسری پراپرٹیز کے انہدام کا معاملہ بھی زیر سماعت ہے.. انہدام پر انہوں نے ہی روک لگا رکھی ہے۔۔۔

میں اکثر گزارش کرتا رہا ہوں کہ اس طرح کے معاملات میں متاثرین’ ذمہ داروں اور ملی قائدین کو پہلے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ ہائی کورٹوں کو دستورکی دفعہ 226 کے تحت غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ دفعہ 32 کے تحت براہ راست سپریم کورٹ آنے سے اکثر معاملات حل نہیں ہوتے۔ آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما کی ہرزہ سرائیوں کے خلاف دائرعرضیوں پرسپریم کورٹ کا رویہ ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ لیکن جب گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تو وہاں کے چیف جسٹس کی بنچ نے تفصیلی سماعت کرکے وزیر اعلی‘حکومت اور ڈی جی پی کو نوٹس جاری کردئے۔

متاثرین کو سپریم کورٹ میں دستور کی دفعہ 32 کے تحت بھی براہ راست جانے کا حق حاصل ہے لیکن ابھی حالات اس کے موافق نہیں لگتے۔ سپریم کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ دفعہ 32 کے تحت متاثرہ فریق کو براہ راست سن کر انصاف فراہم کرے لیکن اسے یہ اختیار بھی ہے کہ وہ متاثرہ فریق کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دے۔ لہٰذا مختلف معاملات میں حالیہ دنوں میں یہی کچھ ہوا ہے۔

سڑکوں پر گھوم گھوم کر لوگوں کو کاٹ کھانے والے آوارہ کتوں کے حقوق پر سپریم کورٹ میں 15 دن تک بحث ہوسکتی ہے لیکن آسام کا وزیر اعلی اگر ’میائوں‘کو جان بوجھ کر ستانے اور پریشان کرنے کی بات کرے اور اگر انہیں نشانہ بناکر گولی مارنے کی ویڈیو یا فوٹو جاری کرے تو اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ لیکن ستم رسیدہ طبقات کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کے معاملات میں پہلے ہائی کورٹ سے ہی رجوع کیا جانا چاہئے۔ جسٹس اتل سری دھرن کو سو سو سلام !

(یہ تحریر ودود ساجد کے وال سے لی گئی ہے)

admin@alnoortimes.in

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

سیاسی بصیرت

ٹی ایم سی رائے گنج لوک سبھا الیکشن کیوں نہیں جیت پاتی؟

تحریر: محمد شہباز عالم مصباحی رائے گنج لوک سبھا حلقہ مغربی بنگال کی ایک اہم نشست ہے جس کی سیاسی
سیاسی بصیرت

مغربی بنگال میں کیا کوئی مسلمان وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے؟

محمد شہباز عالم مصباحی سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی، کوچ بہار، مغربی بنگال مغربی بنگال، جو ہندوستان کی سیاست میں