حق و باطل کا معرکہ اور سسکتی انسانیت، سلگتا مشرقِ وسطیٰ
مولاناعبیداللہ خان اعظمی
سابق رکن پارلیمنٹ و نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نئی دہلی
مشرقِ وسطیٰ…
وہ خطہ جہاں سے امن کی روشنی دنیا بھر میں پھیلی، آج بارود کی بو، خوف کی فضا اور طاقت کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکہ اور مغرب زدہ چند عرب ممالک کے درمیان جاری کشمکش صرف زمین کے ٹکڑوں یا تیل کے خزانوں کی لڑائی نہیں؛ یہ دراصل نظریات کی جنگ اور ذہنی و فکری بالادستی کی اصل جنگ ہے۔ ایک طرف طاقت کا غرور، دوسری طرف مزاحمت کا حوصلہ۔ ایک طرف دنیا کو ذہنی و فکری غلام بنانے کی دوڑ تو دوسری طرف آزادی، شعور اور انسانی اقدار کی حفاظت کی ضد۔
دنیا آج دو راستوں پر کھڑی ہے۔
ایک راستہ نمرود کی آگ جیسا ہے۔ جلانے والا اور آزمائشوں والا، جس کی شدت کے آگے بڑے بڑے سرمایہ دار حکمرانوں نے نمرود کی خدائی کو تسلیم کر لیا اور سرنگوں ہو گئے۔ آج ان سب سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں۔
دوسرا راستہ شداد کی اس جنت سا ہے جو کمزوروں کی ہڈیوں پر کھڑی کی گئی؛ جہاں دولت، طاقت اور وقتی آسائش کی بہتات ہے مگر انسانیت معدوم ہے۔
ان دونوں کے درمیان ایران نے آسان راستہ نہیں، بلکہ آگ والا راستہ چنا۔ سنتِ ابراہیمی پر چلنا اختیار کیا۔ گویا اس نے تاریخ کے یزیدی شور کے مقابل حسینی شعور و صبر اور مزاحمت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی اور بدری سپاہیوں کی طرح لشکرِ جرار کے مقابل سینہ سپر ہو گیا۔ شروعات بیسویں صدی کی ساتویں دہائی سے ہوتی ہے۔آیت اللہ خمینی کا1979 کا انقلاب ایک طوفان تھا جس نے خطے کی خاموش سیاست کو جگا دیا اور ایسی سوچ پیدا کی جو بیرونی طاقتوں کی گرفت سے آزاد ہونا چاہتی تھی۔ تبھی سے پابندیاں لگیں، دھمکیاں آئیں، معاشی دباؤ بڑھایا گیا، الزامات لگائے گئے، تختہ پلٹ کی متعدد کوششیں ہوئیں، داخلی شورشیں بھڑکائی گئیں، ڈیپ اسٹیٹ کی کوششیں ہوئیں، چاروں طرف سے مرغِ بسمل کی طرح تڑپانے کی ناکام سعی کی گئی، مگر یہ کشمکش ختم نہ ہوئی اور جبر کے آگے اہلِ حق چٹان بن کر کھڑے رہے۔ ظلم و بربریت کی آندھیوں کی ضد میں انصاف اور عدل کے قندیل روشن ہوتی رہیں۔
ایران کی ضد سیاست نہیں، ایک نظریہ ہے۔ وہ نظریہ جو اسلامی نظام کی نشاۃِ ثانیہ کی بات کرتا ہے، جو clash of civilizations کی تھیوری کو یکسر مسترد کرتا ہے۔جو یہ ماننے کو تیار نہیں کہ زمانے کی جدید سویلائزیشن کے نام پر اسلام کے روایتی شریعت کو بدل دیا جائے۔ وہ اس خلطِ مبحث کو اچھی طرح سمجھ چکا ہے جو یہ بیانیہ بناتا ہے کہ تہذیبوں کا تصادم فطری ہے، یہ آنی جانی ہے۔اس لیے اے مسلمانوں! پرانے اسلامی نظام کو چھوڑو اور کچھ نیا بنانے کی کوشش کرو۔ مگر مسلمانوں کا نظام تو قیامت تک کے لیے ہے؛ اس کی صرف نشاۃِ ثانیہ ہوگی اور اس کے قائم مقام کوئی نظام نہیں۔ ایران کی اسی سوچ نے عالمی طاقتوں کو دہائیوں سے پریشان کر رکھا تھا۔ نیو ورلڈ آرڈر کی راہ میں اگر کوئی اصل رکاوٹ ہے تو وہ اسلام یا اسلامی حمیت رکھنے والی قوت ہے، اور ایران اسی کی ایک مثال ہے۔
وہ اسلامی نظریہ جو کہتا ہے کہ انسان بازار کی چیز نہیں۔
جہاں سرمایہ دارانہ دنیا سود، عریانیت اور عورت کو اشتہار بنا کر منافع کماتی ہے، وہاں مذہبی اقدار ایک دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ خطے کے کچھ ممالک نے ڈالر کی چمک، عالمی تجارت اور نیوم جیسے خوابوں کے لیے سمجھوتہ کر لیا، مگر ایران نے وہی راستہ چنا جس میں مشکلات زیادہ ہیں، امتحان اور قربانی کی ڈگر ہے لیکن عزتِ نفس محفوظ ہے۔ ذہن مغرب کی غلامی اور مادہ پرست طاغوتی نظام کی پکڑ سے آزاد ہے۔
آج کی جنگیں صرف میدان میں نہیں ہوتیں؛ اب جنگیں خبروں، سازشوں اور خفیہ منصوبوں میں لڑی جاتی ہیں۔ پراکسی گروہ، خفیہ ایجنسیاں اور میڈیا، سب اس شطرنج کے مہرے ہیں۔ حالیہ انکشافات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ کبھی حملہ کہیں ہوتا ہے اور الزام کسی اور پر ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ مسلمان ممالک آپس میں بدگمان ہو جائیں۔ یہی پرانا اصول ہے: لڑاؤ… اور حکومت کرو۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات مغربی اور یورپی دنیا کا دوہرا معیار ہے۔ صہیونیت تو خیر شے ہی ہے انسانیت کی الٹ۔
انسانی حقوق کی باتیں کرنے والی طاقتیں تب خاموش ہو جاتی ہیں جب معصوم بچوں کا خون بہتا ہے۔ اسکول تباہ ہوتے ہیں، بستے راکھ بنتے ہیں، بچیاں مار دی جاتی ہیں، جب ایران جینوا میں ڈپلومیٹک میز پر ہے تبھی پچھلی بار کی طرح اس بار بھی جنگ کی ناگہانی ابتدا امریکہ اور اسرائیل نے کی اور بچوں اور بچیوں کے مشہور قاتل اور اپنے سوا باقی دنیا کو جانور سمجھنے والا ریسسٹ اور ناجائز ملک اسرائیل نے اپنا پہلا حملہ اسکول پر کیا۔ جہاں ایران کی 120 سے زائد بے گناہ بچیاں شہید ہوگئیں۔ مگر عالمی ادارے صرف بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں، اور طاقتور ملک اپنی ویٹو پاور سے انصاف کی ہر آواز کو روک دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دنیا میں قانون نہیں، صرف طاقت بولتی ہے۔ طاقتور کا ظلم دفاع کہلاتا ہے اور کمزور کی چیخ دہشت گردی۔
اس ساری کہانی کا سب سے بڑا استعارہ کربلا ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے سکھایا تھا کہ ظلم کے سامنے سر جھکانا زندگی نہیں۔ آج جب کوئی طاقت کے سامنے انکار کرتا ہے تو لوگ اسے اسی حسینی روایت کی جھلک سمجھتے ہیں۔ اصل سوال یہی ہے۔ دنیا انصاف کے ساتھ کھڑی ہوگی یا طاقت کے ساتھ؟ خدا کے قانون کو مانے گی یا انسان کے بنائے ہوئے نظام کو؟
سچ یہ ہے کہ انسان مکمل آزاد نہیں؛ ہر کوئی کسی نہ کسی نظام کے تابع ہے۔ اب انتخاب صرف یہ ہے کہ اطاعتِ خالق کی ہو یا مخلوق کے بنائے ہوئے اقتدار کی۔
ایک مسلمان کے طور پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم دنیائے انسانیت کے خلیفہ بنائے گئے ہیں؛ ہماری جواب دہی صرف مسلمانوں کے تئیں نہیں بلکہ انسانوں اور مظلوموں کے تئیں بھی ہے۔ چاہے وہ فلسطین و لبنان کے بچے ہوں یا کسی ایپسٹین جیسے شیطانی جزیرے میں استحصال کا شکار معصوم لڑکیاں اور بچیاں، جہاں وقت کے فرعون و شداد ان معصوم کم عمر بچیوں کے خون تک کو کشید کر کے پی جاتے ہوں۔ ان مظلوم بچیوں کی ماؤں کی مامتا کو کون سہارا دے گا؟ ان سینکڑوں امریکی، یورپی اور روسی ماؤں کا سہارا کون بنے گا جن کے لعل و گہر اور پھول جیسی کلیوں کو ظالموں نے نوچ کھایا؟ بحیثیتِ مسلم بالعموم اور بحیثیتِ مسلم ملک بالخصوص یہ فرضِ کفایہ ہے جسے کسی اسلامی ملک نے پورا نہ کیا تو بروزِ قیامت ہر ایک سے پرسش ہوگی، اور وہاں صرف فلسطین کے معصوم بچوں ہی نہیں بلکہ ہر مظلوم کے تئیں سوال ہوگا کہ جب دجال اپنی ہوس کے لیے پاگل ہاتھی بن چکا تھا تو تم، زمین کے خلفاء، نے کیا کیا؟ اللہ کا شکر ہے کہ ایران نے اس انسانیت سوز مغربی جبروت کا بھی مقابلہ کیا اور فلسطین کا ہر دور میں کھل کر ساتھ دیا اور وسائل دیے، اور امت سے فرضِ کفایہ ساقط کیا۔ تاریخ میں کم از کم ایک مسلم ملک کا نام ضرور آئے گا جس سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ مظلوم فلسطینیوں سے پوری دنیا نے نظریں چرا کر چوڑیاں نہیں پہن لی تھیں بلکہ ان میں ایک مسلم ملک تھا جس نے سب کی لاج رکھی تھی۔
خاموشی کبھی غیر جانبداری نہیں ہوتی؛ اکثر وہ ظلم کی خاموش حمایت بن جاتی ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کی نئی نسل، خاص طور پر شعور رکھنے والے نوجوان، مظلوموں کی آواز سننے لگے ہیں اور انصاف کے سوال اٹھا رہے ہیں۔
آخرکار پیغام سادہ ہے:
کچھ قومیں آسانی کے بدلے سر جھکا دیتی ہیں، اور کچھ مشکلات کے باوجود کھڑی رہتی ہیں۔
کیونکہ
باطل سے دبنے والے، اے آسماں! نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے، تُو امتحاں ہمارا۔





