پاگل پن کی قیمت
ودود ساجد
ایڈیٹر روزنامہ انقلاب
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایران کو دی گئی اپنی 48 گھنٹے کی پہلی دھمکی واپس لے کر مزید پانچ دن کی مہلت کیوں دی تھی اور پھر اس مہلت کے ختم ہونے سے کچھ ہی پہلے مزید 10 دن کی مہلت کیوں دیدی؟ اس سوال کی روشنی میں اگر حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو بہت سے نکات سامنے آتے ہیں۔ ٹرمپ نے محض 25 دنوں میں اپنی دھمکی پر عمل آوری کومسلسل دو بار ملتوی یا مؤخر کرنے کے باوجود ایران میں تباہ کن حملے روکے نہیں ہیں۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی فطرت کے عین مطابق ہے۔
ایران کے کئی شہروں اور مختلف نیوکلیائی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ کے کسی ایک بیان پر بھروسہ کرکے تجزیہ کرنا بہت مشکل ہے لیکن یہ بات انہوں نے ایک سے زائد بار زور دے کر کہی ہے کہ ہم نے ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت اور اس کے لڑنے کی قوت کو ختم کردیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس پر حملے کیوں کئے جا رہے ہیں اور کون ان حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں نے عملاً تسلیم کرلیا ہے کہ وہ ایران سے ذلت آمیز شکست کھا چکے ہیں۔ ایران نے بھی اسرائیل پر اور خطہ میں موجود امریکی مفادات پر ایک دن کیلئے بھی حملے نہیں روکے ۔
امریکی مفادات پر حملوں کے نام پر خود خلیجی ملکوں اور ان میں بھی اپنے حلیف ملکوں تک کی سلامتی اور ان سے اپنے مراسم کو ایران نے دائو پر لگا دیا۔ ان میں سب سے اہم قطر اور سعودی عرب ہیں۔ قطر نے تو اس وقت بھی ایران کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا جب 2017 میں ایران کے زیادہ قریب ہونے کے الزام کے تحت سعودی عرب‘متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر سے تمام مراسم منقطع کرلئے تھے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ایران سے 2023 میں از سر نو تعلقات قائم کرلئے تھے جو سرکاری طور پر اب بھی جاری ہیں۔ لہٰذا یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ ایران کیوں ان ملکوں پر اور خاص طور پر سعودی عرب پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایران پر یہ جنگ دھوکہ سے تھوپی کی گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل‘ ایران کو شیعہ ملک سمجھ کر نہیں بلکہ مسلم ملک سمجھ کر تباہ کر رہے ہیں۔ نتن یاہو نے کہا بھی تھا کہ وہ ایسا اتحاد بنانا چاہتے ہیں جو شیعہ اور سنی انتہا پسندوں سے مقابلہ کرے۔ اسرائیل کے نزدیک ہر وہ شیعہ سنی گروپ انتہا پسند ہے جو فلسطینیوں کے حقوق کا علم بردار ہو۔ مسلم ممالک میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ کون سا ملک ہے جو فلسطینیوں کا کھلا دشمن اور اسرائیل کا کھلا خیر خواہ ہو؟ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایران اس خطہ میں واحد ملک ہے جو اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کے سبب اسرائیل کیلئے مسلسل خطرہ ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ظلم و جبر کے خلاف اس خطہ میں اور خاص طور پر فلسطین اور غزہ میں مسلح گروہوں کو ایران ہی فروغ دے رہا ہے۔
اسرائیل کے وجود کیلئے اب ایران کے علاوہ کوئی اور ملک عسکری طور پر خطرہ نہیں ہے۔ مصر‘ اردن‘ بحرین‘ متحدہ عرب امارات‘ مراکش اور سوڈان سے اس کے سفارتی مراسم قائم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ رشتوں کی استواری کی تیاریاں کھلے طور پر زور و شور سے جاری تھیں کہ اکتوبر 2023 میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔ اس کے سبب اسرائیل اور سعودی عرب کے مراسم کی استواری کا عمل ٹھہر گیا۔ غزہ میں دوسالہ قتل عام کے دوران سعودی عرب نے متعدد بار اسرائیل سے باز رہنے کو کہا اور یہ بھی کہ اس وقت تک اس سے تعلقات قائم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک وہ قتل عام نہ روک دے اور مستقل فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ صاف نہ کردے۔ سعودی عرب بظاہر آج بھی اسی موقف پر قائم ہے۔
جنگ کے ان 29 دنوں میں مختلف محاذوں پر اتنے واقعات نمودار ہوئے ہیں کہ سب کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھنے سے انتہائی بھیانک تصویر بنتی ہے۔ پورا خطہ خلیج اور اس کے حوالہ سے پوری دنیا بے شمار مسائل کا شکار ہوگئی ہے۔ اس وقت منظر نامہ پر چار عناصر موجود ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر مسلسل بھیانک تباہ کن حملے کر رہے ہیں۔ تنہا ایران شدید نقصان اٹھانے اور انتہائی کمزور ہونے کے باوجود نہ صرف اپنا دفاع کر رہا ہے بلکہ ان دونوں کا پورے خطہ میں مقابلہ بھی کر رہا ہے۔ خلیج کے عرب ممالک ٹرمپ اور نتن یاہو کی شرانگیزیوں کا بھی شکار ہو رہے ہیں اور ایران کے حملے بھی برداشت کر رہے ہیں لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس طرح ان دونوں عناصر کا مقابلہ کریں۔ درست بات یہ ہے کہ انہوں نے اس صورتحال کیلئے کبھی خود کو تیار کیا بھی نہیں۔ وہ امریکی اڈوں پر ہی تکیہ کئے بیٹھے رہے جبکہ امریکی اڈے آج خود نشانہ پر ہیں۔ آخری کونے پر باقی دنیا بے بس کھڑی ہے‘ اس کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے۔
میدان جنگ کا ہلکا ساجائزہ لیا جائے تو یقین ہوتا ہے کہ ایران کے نقصان کے باوجود دو شرپسندوں کی سرکوبی کا عمل بھی جاری ہے۔ ایران کی وزارت صحت اور دیگر ذرائع کے مطابق ایران میں اب تک تین ہزار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ توانائی‘بجلی اور فوجی تنصیبات کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ امریکہ کے دعوے کے مطابق ایران کے بیشتر میزائل لانچرس اور میزائل اور ڈرون فیکٹریوں کو برباد کردیا گیا ہے۔ ملک بھر میں بجلی کی فراہمی اور کھانے پینے کی اشیاء کی زبردست قلت ہے۔ اس کے باوجود ایران کے جوابی حملے جاری ہیں۔ 28 مارچ کو بھی ایران نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایر بیس پر حملے کرکے متعدد امریکی فوجیوں کو شدید زخمی اور دو کو ہلاک کردیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ایران نے تین سو امریکی فوجیوں کو شدید زخمی کیا ہے۔ فضا میں ایندھن بھرنے والے کئی امریکی جہازوں کو بھی تباہ کردیا ہے۔ اب تک 13 امریکی فوجیوں کے تابوت امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ خلیجی ملکوں میں بڑے پیمانے پر نہ صرف امریکی فوجوں اور اس کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے بلکہ خود ان ملکوں کی متعدد تنصیبات کو بھی شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے جنگ کی تمام تفصیلات‘ تصاویر اور ویڈیوز پر مکمل پابندی عاید کر رکھی ہے اس کے باوجود سوشل میڈیا پر بہت کچھ مواد آرہا ہے۔ دو درجن ہلاکتوں اور پانچ ہزار زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے لیکن آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں سینکڑوں میں ہیں۔ دس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہیں۔ اسرائیل کے کئی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ کئی ریسرچ سینٹروں اور ہوائی اڈوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کو جانے والی اسرائیلی فلائٹس بھی منسوخ ہیں۔ پچھلے دو سال میں دو لاکھ اسرائیلی شہری ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
ادھر لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی اسرائیلی فوج تباہ کن حملے کر رہی ہے۔ لہٰذا اسرائیل کے متعدد علاقے بھی حزب اللہ کے حملوں کی زد میں ہیں۔ حزب اللہ کے حملوں میں ہر روز اسرائیلی شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں آرہی ہیں۔ اسرائیل نے بھی لبنان میں سینکڑوں مقامات کو تباہ کردیا ہے۔ اب تک تین ہزار لبنانی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اب اس جنگ میں یمن کی جماعت انصار اللہ بھی شامل ہوگئی ہے۔ آج اس نے بھی حملے کئے ہیں۔ مختلف ملکوں کے مال بردار بحری جہازوں کیلئے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ اب حوثیوں کے ذریعہ باب المندب کے بند ہونے کے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ باب المندب بند ہوا تو دنیا میں مزید افراتفری پھیلے گی۔۔
امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی اور مذاکرات کی خبروں پر بہت زیادہ یقین کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ یہ سب ٹرمپ کی دھوکہ بازی ہے۔ ٹرمپ یکطرفہ طور پر یہی کہہ رہے ہیں کہ ایران’ ڈیل‘ کرنے کیلئے بے تاب ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ اپنے مرشد اعلیٰ اور 60 سے زیادہ ممتاز عہدیداران کے قتل کے بعد بھی ایران کوئی ’ڈیل‘ کرنے کیلئے بے تاب ہوگا۔ ایران سے عوامی جذبات و احساسات پر مشتمل جو خبریں آرہی ہیں ان کی روشنی میں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران کے لوگ مرنے کیلئے تیار ہیں مگر جھکنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔۔ امریکی فوجی ذرائع کے حوالہ سے امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ دس ہزار امریکی فوجی ایران میں زمینی جنگ کیلئے روانہ ہورہے ہیں۔ لہٰذا ایران کے حوالہ سے بھی خبریں آرہی ہیں کہ دس لاکھ جانباز رضاکار زمینی جنگ کیلئے تیار ہیں۔
یہ حال اس وقت ہے کہ جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کی متعدد فورسز کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ ایران کے پاس موجود ہتھیاروں کی تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی طاقت دور مار میزائل اور ڈرون ہیں۔ امریکہ نے اعتراف کرلیا ہے کہ ہم ابھی تک ایران کی ایک تہائی قوت ہی ختم کرسکے ہیں۔ ایران نے اب تک کئی امریکی اور اسرائیلی جہاز مار گرائے ہیں۔ان میں ایف16‘ ایف 18 اور ایف 35 جیسے خطرناک جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح سات اکتوبر 2023 کو اور پھر اس کے بعد دو سال تک حماس نے اسرائیل کا مقابلہ کرکے دنیا بھر کو حیران کردیا تھا اسی طرح ایران بھی امریکہ اور اسرائیل کو ترکی بہ ترکی جواب دے کر ہر روز دنیا کو حیران کر رہا ہے۔
ایران کے نئے مرشد اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا اولین پیغام بھی بہت اہم ہے جس میں کہا گیا کہ حملے اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک خلیج میں امریکی اڈے بند نہیں ہوجاتے۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی نظام بدل رہا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایران کی مدد چین اور روس کر رہے ہیں۔ ان کے دو مقصد سب سے اہم ہیں۔ وہ ایک طرف ایران کے قدرتی ذخائر اور وسائل سے مسلسل فائدہ اٹھاتے رہنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ امریکہ کی عالمی بالادستی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے پاس امریکہ اور اسرائیل کو شکست دینے کیلئے فضائی قوت نہیں ہے لیکن اس کے پاس میزائل اور ڈرون کی درجنوں اقسام کی جو قوت ہے وہ خطہ میں کسی کے پاس نہیں ہے‘ اسرائیل کے پاس بھی نہیں‘ اور یہ سب اسے چین اور روس نے دیا ہے۔
جب ہم امریکہ اور اسرائیل کے خلاف موجود اسباب اور عناصر کی کڑیاں جوڑ کر دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جنگ اتنی جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔ امریکہ‘ اسرائیل ‘ خلیجی ممالک اور یوروپ تک میں اب اس پر غور ہو رہا ہے کہ کیا ٹرمپ اور نتن یاہو یہ جنگ ہار رہے ہیں؟ اسرائیل اور امریکہ میں ٹرمپ اور نتن یاہو کے خلاف ماحول بن رہا ہے۔ کل ہی امریکہ کے مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 80 لاکھ افراد نے ٹرمپ اور جنگ کے خلاف مظاہرے کئے ہیں ۔۔ تاریخ کے حوالہ سے تجزیے لکھے جارہے ہیں کہ امریکہ جہاں بھی گیا ناکام و نامراد ہوکر لوٹا اور اقتدار کی تبدیلی کا نشانہ کہیں بھی حاصل نہیں کرسکا۔
اسرائیلی مبصرین بھی لکھ رہے ہیں کہ نتن یاہو ایران میں اقتدار کی تبدیلی میں ناکام ہوگیا۔ 27 مارچ کو امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وانس اور نتن یاہو کے درمیان فون پر تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔ وانس نے کہا ہے کہ نتن یاہو نے امریکہ کو پھنسا دیا ہے۔ اس جنگ میں امریکہ ہر روز ایک ہزار ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ اسرائیل ہر روز چار سو ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ جب کہ ایران ہر روز محض پچاس ملین ڈالر خرچ کرکے ہی دونوں کو پسپا کر رہا ہے۔ یہ اللہ کی کیسی عجیب قدرت ہے کہ ایک چیونٹی دو دو ہاتھیوں سے لوہا لے رہی ہے۔
(قلم کار کے وال سے)





